خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا، اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے اہم پابندیاں عائد کی گئیں ہیں، پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہوگی، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں پر بھی پابندی ہوگی۔ 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہو گی، بسنت کے دوران بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ خلافِ قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا، اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا۔ دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل ہوں گے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے لاہور میں 6 تا 8 فروری کو محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025ء کے تحت بسنت 2026ء کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی، بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت پنجاب نے بسنت کے دوران امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کیں۔
پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025ء کے تحت دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے، حکومت پنجاب نے خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع قرار دی ہے۔ترجمان کے مطابق مقررہ تواریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانےکی سزا ہو سکتی ہے، ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فروخت اور استعمال بسنت کے دوران

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی