متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کو اپنی سمیں استعمال کرنے کی سہولت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260127-08-17
دبئی(مانیڑنگ ڈیسک) متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی اب اپنے آبائی ملک کی موبائل فون سمیں بلاک ہونے کی پریشانی کے بغیر استعمال کر سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ملک کے تارکین وطن کی خدمت کے لیے غیر ملکی قیام کے دوران موبائل سمز کو بلاک کرنے سے روکنے کے لیے سہولتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اب متحدہ عرب امارات و دیگر ممالک میں رہنے والے پاکستانی جب بیرون ملک مقیم ہوں تو وہ حکومت کی طرف سے بلاک کیے بغیر اپنی پاکستانی موبائل فون سم استعمال کرسکتے ہیں۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنی سروس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اپنے متعلقہ سروس پرووائیڈرز کو مطلع کرنے کی ضرورت ہے، اس اقدام کے تحت سبسکرائبرز اپنے متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کو ایک مخصوص مدت کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مطلع کرسکتے ہیں۔ یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو اپنے موبائل سمز کی سبسکرپشن برقرار رکھنے کے قابل بناتا ہے اور اپنے متعلقہ سروس فراہم کنندگان کے ذریعے موبائل سروسز تک بلا تعطل رسائی کو یقینی بناتا ہے۔اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ پری پیڈ سبسکرائبرز کو 180 دنوں کے اندر کم از کم ایک سرگرمی جیسے کال کرنا، ایس ایم ایس بھیجنا، موبائل ڈیٹا استعمال کرنا یا بیلنس لوڈ کرنا ضروری ہوگا ۔ پوسٹ پیڈ کنکشن کے لیے سبسکرائبرز کو ماہانہ بل اور کسی بھی بقایا واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا چاہیے، باقاعدہ اور وقت پر بل کی ادائیگی کنکشن کی فعال حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے۔بتایا جارہا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 10 ملین پاکستانی شہری غیر ممالک میں مقیم اور کام کر رہے ہیں، جن میں سے نصف سے زیادہ، 5.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات میں اپنے متعلقہ سروس کو یقینی کے لیے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔