—فائل فوٹو

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہر سانحے کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی نورا کشتی شروع ہو جاتی ہے۔

کراچی میں ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازا سانحے کے بعد کراچی میں ملک سے مایوسی کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ گل پلازا میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا، سندھ حکومت کا یہ حال ہے کہ بارش ہو جائے تو پانی کی نکاس نہیں کر سکتے، آگ لگ جائے تو بجھا نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ نہ صوبائی، نہ وفاقی کنٹرول، کراچی کے مسئلے کا حل کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، لوگ جسے منتخب کریں، اسے میئر ہونا چاہیے، قبضہ میئر نہیں ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو کی لانچنگ گل پلازا میں جل رہی ہے: نعیم الرحمان

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے کالے قانون کو واپس لے، الیکشن ہونا چاہیے اور بااختیار ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن منصوبہ 10 سال بعد بھی مکمل نہیں ہوا، آپ کی کک بیکس اور کرپشن بڑھتی رہتی ہے، نااہل اور کرپٹ لوگ ہمارے اوپر مسلط ہیں۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کے لیے بنی ہوئی سڑک کو توڑ دیا، وفاق میں سب مل کر حکومت کر رہے ہیں، شہر کا بیڑا غرق کر رہے ہیں، شہرمیں پورشن کا دھندہ چل رہا ہے، یہ کون سے نعمت اللّٰہ اور عبدالستار افغانی کے دور کا ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ گل پلازا سانحے کے بعد یہاں کے لوگوں میں بے بسی کی کیفیت ہے، فائر فائٹر کے پاس آگ سے بچنے کا لباس نہیں ہے، فائر فائٹر کے پاس ماسک بھی موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یکم فروری کو شارع فیصل پر جینے دو کراچی کو مارچ ہوگا، اس مافیا سے کراچی کو چھڑانا ہوگا، سابق میئر نعمت اللّٰہ اور عبدالستار افغانی پر الزامات جھوٹ کا پلندہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں مرکزی شاہراہ پر بلڈنگ موجود تھی، نعمت اللّٰہ خان نے اس میں صرف قانون سازی کی ہے، لوگ فراڈیوں کے پاس نہ جائیں جنہوں نے اس شہر کو برباد کیا، وزیر اعلیٰ سندھ کو نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن سانحے کے بعد ہونا چاہیے ن کا کہنا نے کہا کہ ایم کی

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان