ہندوتوا کی وحشت: عیسائی پادری پر جبر
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اڈیشا کے دھنکنال ضلع کے پرجن گاؤں میں 4 جنوری 2026 کو ایک دل دہلا دینے والا واقعہ بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی ہوئی جارحیت کا زندہ ثبوت ہے۔ عیسائی پادری بپن بہاری نائیک اور ان کے خاندان پر بجرنگ دل کے ارکان اور مقامی ہندو انتہا پسندوں نے انتہائی درندگی کا مظاہرہ کیا۔ پادری کو رسیوں سے باندھا گیا، لاٹھیوں اور چپلوں سے پیٹا گیا، سر پر زبردستی سیندور لگایا گیا، چہرے پر تھپڑ مارے گئے اور سب سے زیادہ ذلت آمیز عمل یہ کیا گیا کہ گائے کا گوبر زبردستی ان کے منہ میں ٹھونس دیا گیا۔ ہجوم نے انہیں زبردستی ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ یہ حملہ ایک عبادت کی محفل کے دوران ہوا، جہاں صرف سات عیسائی خاندان موجود تھے، جو ہندو اکثریتی علاقے میں اپنی مذہبی رسوم ادا کر رہے تھے۔ پادری کی بیوی وندنا نائیک نے میڈیا کو تفصیل سے بتایا کہ ہجوم نے گھر میں زبردستی داخل ہو کر سب کو مارنا شروع کر دیا۔ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ خاندان بھاگ کر قریبی پولیس اسٹیشن پہنچا، لیکن پولیس نے دو گھنٹے تک شکایت درج کرنے سے انکار کیا۔ جب بالآخر پولیس پہنچی تو پادری ہنومان مندر کے احاطے میں رسی سے بندھا ہوا تھا، اس کا جسم خون میں لتھڑا ہوا تھا اور ہجوم اسے گوبر کھلانے اور نعرے لگانے پر مجبور کر رہا تھا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر عیسائیوں کی شکایت کو نظر انداز کرتے ہوئے پادری کے خلاف ’’مذہب تبدیل کرنے‘‘ کا جوابی مقدمہ درج کیا، حالانکہ اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ تھا۔ خاندان کو شدید دھمکیاں دی گئیں کہ وہ گاؤں چھوڑ دیں، سات عیسائی خاندانوں کے گھروں کو جلانے کی کھلی دھمکیاں دی گئیں، اور اب وہ محفوظ جگہ پر منتقل ہو چکے ہیں۔
واقعہ اڈیشا میں عیسائیوں اور مسلمانوں پر ہندوتوا کے حملوں کا تسلسل ہے، جو اب ایک منظم دہشت گردی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 2025 میں اڈیشا کے مالکا نگیری ضلع میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے 20 عیسائی خاندانوں پر حملہ کیا، جنہوں نے مذہبی تبدیلی سے انکار کیا تو آٹھ افراد شدید زخمی ہوئے۔ جلیسوار شہر میں 70 کے قریب ہندو انتہا پسندوں نے 2 پادریوں اور کئی ننوں پر حملہ کیا، انہیں مسجدوں اور گرجا گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی۔ ملک بھر میں ہندو قوم پرست گروپس نے 2025 کے پہلے 3 مہینوں میں مسلمانوں پر کم از کم 5 لنچنگ کیں، جن کا جواز ’’گائے تحفظ‘‘ قرار دیا گیا۔ اتر پردیش، راجستھان اور جھار کھنڈ جیسے صوبوں میں مسلمانوں کو گائے کا گوبر کھلایا گیا، انہیں ننگا گھمایا گیا اور ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک بجرنگ دل، وشوا ہندو پریشد اور گئو رکشک گروپس بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی مکمل سرپرستی میں فعال ہیں۔
2025 جولائی سے ستمبر تک اڈیشا میں عیسائیوں پر مزید حملے درج ہوئے، جن میں گرجا گھروں کو توڑنا اور خاندانوں کو بھگایا جانا شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیاں اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی ہیں، جو نفرت انگیز تقریروں اور فرقہ وارانہ قوانین سے تقویت یافتہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے 2024 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں، ہندو انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی اور انتخابات سے پہلے نفرت کی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ بھارت اقلیتوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرے اور تشدد کو روکے۔ یہ حملے صرف اڈیشا تک محدود نہیں۔ اتر پردیش میں مسلمان دکانداروں پر گائے بیچنے کے الزام میں لنچنگ، مہاراشٹر میں عیسائی مشنریوں پر ’’تبدیلی مذہب‘‘ کے جھوٹے الزامات اور گجرات میں مسلمانوں کے گھروں پر حملے روزمرہ کی حقیقت بن چکے ہیں۔ ہندوتوا کا یہ نظریہ مذہبی آزادی کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے، جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی 1925 سے جاری برین واشنگ کا نتیجہ ہے۔ اڈیشا جیسے علاقوں میں عیسائی خاندانوں کو گھروں سے نکالنا، ان کی جائیدادوں کو تباہ کرنا اور انہیں ہندو رسوم پر مجبور کرنا ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور دیگر اداروں کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ امریکا کی یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم نے ہندو قوم پرستی کو ’’مذہبی آمریت‘‘ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں اور عیسائیوں پر قتل، لنچنگ، گرجا گھروں کی توڑ پھوڑ اور جبری تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔ بھارت کے کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے اڈیشا حملوں کو انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور مرکزی حکومت سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ، بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد جیسے گروپ واضح طور پر دہشت گرد تنظیمیں ہیں، جو منظم تشدد سکھاتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور امن کو خطرہ ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا، جو اب دوبارہ اٹھایا جانا چاہیے۔ امریکا، یورپی یونین، اقوام متحدہ، ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی اور یونائیٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجس فریڈم جیسی تنظیموں کو بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت پر بھرپور دباؤ ڈالنا چاہیے۔ انہیں مطالبہ کرنا چاہیے کہ: (1) ایسے حملوں کی فوری تحقیقات کی جائے اور مجرمان کو سزا دی جائے؛ (2) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں پر پابندی لگائی جائے؛ (3) بھارت کو ’’تشویش والا ملک‘‘ قرار دیا جائے۔ عالمی برادری کی خاموشی ان جرائم کو مزید ہوا دے گی۔ ان تنظیموں کو چاہیے کہ وہ بھارت پر سفارتی پابندیاں عائد کی جائیں، ویزا پابندیاں عائد کریں اور انصاف کو یقینی بنائیں۔
پاکستان بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب کرے، عالمی فورموں پر بھارت کا یہ نفرت انگیز اور فرقہ وارانہ چہرہ اجاگر کرنے کا فرض ادا کرنا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مسجدوں کی بندش اور شہادت اور مسلمانوں پر ظلم کی طرح، اڈیشا کا یہ حملہ مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کو اقوام متحدہ، تنظیم اسلامی تعاون، ہیومن رائٹس کونسل اور دیگر پلیٹ فارموں پر ثبوت پیش کرنے چاہیے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو دہشت گرد قرار دلوانے کی عالمی مہم چلانی چاہیے۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کا معاملہ ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں علاقائی امن اور استحکام کا بھی سوال ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی خاموشی ان دہشت گرد گروپس کو کھلی چھوٹ دیتی ہے۔ پاکستان کو مسلم دنیا، عیسائی ممالک اور انسانی حقوق کے حامیوں کو متحد کرنا چاہیے۔ ثبوتوں کی بنیاد پر سفارتی اور قانونی مہم چلائی جائے، تاکہ بھارت کی ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کی جھوٹی تصویر بے نقاب ہو۔ پاکستان کو عالمی میڈیا، پارلیمنٹ اور سفارت خانوں کے ذریعے ان واقعات کو اجاگر کرنا چاہیے، ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنی چاہییں اور انصاف کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ یہ آواز اٹھانا پاکستان کی اخلاقی اور قومی ذمے داری ہے۔ عالمی برادری جاگ اٹھے ہندوتوا کی یہ وحشت ناقابل برداشت ہے۔ عیسائی پادری کو گوبر کھلانا، مسلمانوں کی لنچنگ اور اقلیتوں پر منظم حملے بھارت کو ایک فرقہ وارانہ آمریت میں تبدیل کر رہے ہیں۔ عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان کو فوری طور پر آواز اٹھانی چاہیے۔ اقلیتوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔ امن اور مذہبی آزادی کی حفاظت عالمی ضمیر کی امتحان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کرنا چاہیے پاکستان کو اور ان
پڑھیں:
اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور بات چیت کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل ثالثی کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke today with Kuwait’s Foreign Minister Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah to discuss evolving regional and international developments.
FM Sheikh Jarrah appreciated Pakistan’s continued… pic.twitter.com/CBnvw1REKc
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
انہوں نے علاقائی امن و سلامتی کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے سفارت کاری اور مسلسل مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کی حمایت جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس امید کا اظہار کیاکہ جاری سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور مستقبل قریب میں خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
گفتگو کے دوران پاکستان اور کویت کے درمیان موجود مضبوط برادرانہ تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے مستقبل میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار ٹیلیفونک رابطہ عالمی صورتحال کویتی وزیر خارجہ نائب وزیراعظم وی نیوز