ویب ڈیسک: رمضان المبارک کے موقع پر حکومتِ پنجاب نے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے بڑے مالی امدادی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری سے شروع کیے گئے رمضان نگہبان پیکیج کے تحت لاکھوں مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد فراہم کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق 47 ارب روپے مالیت کے اس پیکیج سے پنجاب بھر میں تقریباً 42 لاکھ مستحق خاندان مستفید ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر ایک کروڑ افراد کو ریلیف ملے گا۔ ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے کیش دیے جائیں گے، جبکہ راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے ماہانہ امداد 3 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔

انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا

حکومت کی جانب سے 20 لاکھ سے زائد نگہبان کارڈز جاری کیے جائیں گے۔ ان کارڈز کے ذریعے مستحق افراد بینک آف پنجاب کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس یا ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی اے ٹی ایم سے رقم نکلوا سکیں گے۔ کارڈز کی فعال سازی کے لیے صوبے بھر میں 136 مراکز قائم کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ گھر گھر جا کر نگہبان کارڈز مستحقین تک پہنچائے تاکہ عوام کو قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ اس کے علاوہ ہر تحصیل میں 8 نگہبان دسترخوان قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کو افطاری فراہم کی جائے گی۔

معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے

حکام کے مطابق شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی رمضان نگہبان ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے امداد کی تقسیم اور وصولی کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ حکومت رمضان المبارک میں کسی بھی مستحق خاندان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔
 
 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کیے جائیں گے ہزار روپے کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود