رمضان نگہبان پیکیج: مستحق افراد کو 10 ہزار روپے کیش کیسے ملیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: رمضان المبارک کے موقع پر حکومتِ پنجاب نے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لیے بڑے مالی امدادی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری سے شروع کیے گئے رمضان نگہبان پیکیج کے تحت لاکھوں مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے نقد فراہم کیے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق 47 ارب روپے مالیت کے اس پیکیج سے پنجاب بھر میں تقریباً 42 لاکھ مستحق خاندان مستفید ہوں گے، جبکہ مجموعی طور پر ایک کروڑ افراد کو ریلیف ملے گا۔ ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے کیش دیے جائیں گے، جبکہ راشن کارڈ ہولڈرز کے لیے ماہانہ امداد 3 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا
حکومت کی جانب سے 20 لاکھ سے زائد نگہبان کارڈز جاری کیے جائیں گے۔ ان کارڈز کے ذریعے مستحق افراد بینک آف پنجاب کے برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس یا ون لنک نیٹ ورک سے منسلک کسی بھی اے ٹی ایم سے رقم نکلوا سکیں گے۔ کارڈز کی فعال سازی کے لیے صوبے بھر میں 136 مراکز قائم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ گھر گھر جا کر نگہبان کارڈز مستحقین تک پہنچائے تاکہ عوام کو قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ اس کے علاوہ ہر تحصیل میں 8 نگہبان دسترخوان قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کو افطاری فراہم کی جائے گی۔
معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے
حکام کے مطابق شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی رمضان نگہبان ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے امداد کی تقسیم اور وصولی کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ حکومت رمضان المبارک میں کسی بھی مستحق خاندان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کیے جائیں گے ہزار روپے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔