—فائل فوٹو

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما سید امین الحق کا کہنا ہے کہ گل پلازا پر تنقید کے بعد سندھ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازا واقعے پر تنقید پر ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے سندھ حکومت نے سیکیورٹی واپس لی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، مجھ سمیت تمام رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لی گئی۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی نااہلی کو عوام کے سامنے لاتے رہیں گے، سیکیورٹی واپس لینے سے ہم گھبرائیں گے نہیں، ہم عوامی لوگ ہیں، سندھ حکومت ہمیں دیوار کے ساتھ لگانا چاہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے آئی جی سندھ کا مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار ایم کیو ایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، وزیر داخلہ سندھ

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم عوام کی بات کرتی رہی گی، ایم کیو ایم پارلیمان میں آواز اٹھاتی رہی اب سڑکوں پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ایم کیو ایم سڑکوں پر آنے کا سوچ رہی ہے۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ ہمیں مقدمات میں پھنسانے کی کوشش بھی کی جائے گی، ہم پر پہلے بھی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہمیں سیکیورٹی کے لیے ایک ایک پولیس موبائل فراہم کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سیکیورٹی واپس ایم کیو ایم سندھ حکومت امین الحق ایم کی

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن