وزیراعلی پنجاب اسٹروک پروگرام، محکمہ اسیشلائزڈ نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
مریم نوازشریف نے اسٹروک پروگرام کی نگرانی کےلئے صوبائی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کا نوٹفکیشن تین روز بعد واپس لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق مریم نوازشریف نے ڈاکٹر عمیر راشد کی سربراہی میں 9 رکنی کمیٹی شکیل دی تھی ۔ اسٹرینگ، ایڈوائزری کمیٹی کا نوٹیفکیشن سیکریٹری اسپشلائزڈ ہیلتھ عظمت محمود کے حکم پر واپس لیا گیا۔
محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ نے بتایا کہ بعض وجوہات کی بنا پر نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ وزیراعلی آفس کی جانب سے آج پنجاب اسٹروک پروگرام کا اعلامیہ جاری ہوا تھا۔
کمیٹی نے پنجاب میں اسٹروک سہولیات 15 مراکز سے بڑھا کر تمام ٹیچنگ اور ڈی ایچ کیو اسپتالوں تک لے کر جانا تھا۔
اسٹروک پروگرام کو صوبہ بھر میں وسعت دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ نوٹیفکیشن جاری ہوا پھر واپس لے لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹروک پروگرام واپس لے لیا
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔