Jasarat News:
2026-07-24@11:23:42 GMT

سندھ: بیشتر مسائل کی جڑ ’’سسٹم‘‘

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260127-03-5
’’کیا قیامت ہے، کیا مصیبت ہے، کہہ نہیں سکتے؍ کس کا ارماں ہے، زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے، حیراں حیراں ہے‘‘۔ قیامتیں، مصیبتیں کراچی والوں کا مقدر ہو گئی ہیں ایک قیامت کا ماتم جاری ہوتا ہے کہ دوسری برپا ہو جاتی ہے، ایک مصیبت کا رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ دوسری، تیسری، چوتھی نازل ہو جاتی ہیں، کراچی کے عوام ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرکوں سے کچلے جانے، کھلے گٹروں، ٹوٹے نالوں میں گر کر مرنے پر آہ و بکا کر رہے تھے کہ گل پلازے کا سانحہ ہو گیا، ہنستے کھیلتے، زندگی سے بھرپور مرد، عورتیں، بچے چند گھنٹوں میں کوئلہ بن گئے ٹکڑوں میں بٹ گئے، درجنوں لوگ شہید ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کا ابھی تک پتا ہی نہیں چل رہا وہ کہاں ہیں بچ گئے یا اینٹ پتھر کے ملبے میں مل گئے۔

مجرموں کا تعین کرنا ایسا مشکل تو نہیں لیکن ہو نہیں سکے گا کیونکہ صوبہ سندھ میں سرکاری سسٹم کے اوپر ایک ’’سسٹم‘‘ نافذ ہے جو سرکاری سسٹم سے بھی زیادہ مضبوط ہے پورے صوبے کے لیے یہ سسٹم بدترین عذاب کی شکل ہے، سندھ میں مسائل کے حل اور ترقی کے لیے اس سسٹم کا خاتمہ ضروری ہے، اس سسٹم کو کوئی توڑ نہیں سکتا کیونکہ جس نے یہ سسٹم بنایا ہے وہ خود حکمران ہے اور ’’اصل حکمران‘‘ کی سر پرستی بھی اسے حاصل ہے بلدیاتی حکومت اور صوبائی حکومت مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وفاقی حکومت میں وہ ساجھے دار ہے انصاف ہوگا، نہیں ہوگا، کب ہوگا یہ الگ بات ہے لیکن اس سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات لوگوں نے لوگوں کے دل چیر دیے ہیں، سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی کی موجودہ رکن سیدہ شہلا رضا زیدی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آگ ہے ہو جاتا ہے‘‘ ہائے کیا سفاکی ہے، آگ ہے ہو جاتا ہے، خدانخواستہ کوئی بڑی سیاسی شخصیت آگ میں جل جائے تب بھی وہ ایسا کہہ سکتی ہیں، ہرگز نہیں کہہ سکتیں، محترمہ کے دو بچے کئی برس قبل حادثے میں شہید ہوئے تھے آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو وہ اور ہر سننے والا افسردہ ہو جاتا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اس المیہ پر استعفا نہ دیتے لیکن استعفے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعن طعن تو نہ کرتے، بار بار غصے کا اظہار تو نہ کرتے، وہ بابائے شہر ہیں لوگ ان سے سوال نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کا لب و لہجہ بھی اس کا عکاس ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے انہوں نے گل پلازہ کی لیز، تعمیر، توسیع اور دیگر حوالوں سے کراچی کے سابق میئرز عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان اور فاروق ستار کے نام لیے لیکن موجودہ میئر کا نام نہیں لیا کیونکہ اس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، گل پلازہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، کیا جو اس المیہ پر بات کر رہا ہے وہ سیاست کر رہا ہے؟

گل پلازہ میں سیکڑوں اضافی دکانیں تعمیر کر لی گئیں، راستوں کو گھیرا گیا ان سب کی روک تھام کون کرتا ہے؟ کون تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتا ہے؟ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنانے والے بتائیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے فرائض کیوں انجام نہیں دیے اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے ایک ایک شخص کو پتا ہے کہ یہ ادارہ بڑے صاحبان کی اے ٹی ایم ہے اس لیے اس کا کام غیر قانونی تعمیرات کو روکنا نہیں مال بنانا ہے، پیسے لینا اور اجازت دینا، پورے شہر میں جہاں پہلے ایک بنگلہ یا مکان ہوتا تھا آج وہاں 20، 20 منزلہ عمارتیں ہیں اور ان میں چھوٹے چھوٹے سیکڑوں فلیٹس بنے ہوئے ہیں، کیا ان عمارتوں کی اجازت دینے والے افسران سے پوچھا گیا کہ اے بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھنے والے عقلمند لوگو! پانی کی جو لائن، سیورج کی جو لائن ایک خاندان کے لیے ڈالی گئی تھی وہ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گی؟ شہر میں پانی موجود نہیں، ہو تب بھی اس کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی، گٹروں سے لازماً پانی اُبلتا رہے گا، گلیوں اور سڑکوں کو برباد اور عوام کو بیمار کرتا رہے گا، بجلی کی فراہمی کا نظام جو ایک خاندان کے لیے لگایا گیا تھا۔ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گا؟ آج شہر کے بیش تر علاقوں میں پانی، بجلی، گیس، سیوریج کے مسائل خوفناک شکل اختیار کر چکے ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے اختیارات لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنانے والے بتائیں آج شہر کے گلی کوچوں، سڑکوں چوراہوں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں کیڑے مکوڑوں، مکھیوں، مچھروں، چوہوں کی بہتات ہو گئی ہے بچوں بڑوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، گھروں میں چوہے دندناتے پھرتے ہیں کوئی چیز ان سے محفوظ نہیں رہی۔ شہر کا امن تہ وبالا ہے، موٹر سائیکلیں، کاریں بڑے پیمانے پر چھینی جا رہی ہیں، ڈاکو اتنے بے خوف ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو قتل کرنا ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، معمولی سی مزاحمت پر وہ گولی مار دیتے ہیں۔ زمینوں پر قبضے تو پہلے بھی ہو رہے تھے اب ان مکانوں پر بھی قبضے ہو رہے ہیں جن میں لوگ برسوں سے آباد ہیں، اس مقصد کے لیے جعلی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں، سرکاری ادارے کے افسران تعاون کرتے ہیں۔

بڑی چھوٹی ہر سڑک پر تجاوزات قائم ہیں، ٹھیلے والے بیچ سڑک پر کھڑے ہیں، خود پولیس موبائل کو بڑی مشکل سے راستہ ملتا ہے لیکن پولیس بالکل لاتعلق ہے کیونکہ اس کا کام پیسے بنانا اور اوپر پہنچانا ہے، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے لیکن وزیراعلیٰ اور وزیروں کو شاید اس کا علم ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے گزرنے کے لیے پہلے سے سڑکیں کلیئر کرانے کا بے انصافی پر مبنی قانون موجود ہے اور اس پر 100 فی صد عمل ہوتا ہے سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں موٹر سائیکل چلانے والے بیش تر افراد اور رکشوں میں سفر کرنے والے بہت سے افراد کمر کے امراض کا شکار ہو چکے ہیں لیکن وزیروں افسروں کو ان مسائل کا علم ہی نہیں کیونکہ ان کے لیے جدید ترین گاڑیاں دستیاب ہیں میری تجویز ہے کہ تمام وزیروں اور افسران سے کاریں واپس لے کر انہیں رکشوں (خاص ان کے لیے بنائے گئے نہیں عام رکشوں) میں سفر کرنے کا پابند بنا دیا جائے تو شہر کے بہت سے مسائل مہینے دو مہینے میں حل ہو جائیں گے۔

جو سانحہ ہو گیا اسے تو اب نہیں بدلا جا سکتا لیکن آئندہ ایسے سانحات نہ ہوں اس کے لیے اقدامات تو کیے جا سکتے ہیں اور ضرور کیے جانے چاہییں سب سے پہلے تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو متحرک کیا جائے، شہر کی تمام رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں زیر زمین منزلوں میں بنی گئی دکانوں، گوداموں کو ختم کیا جائے اور یہ جگہ صرف گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کی جائے، شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جو اضافی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں انہیں بغیر کسی استثنیٰ کے ختم کیا جائے، دکانداروں کو دکانوں کے باہر سامان رکھنے سے روکا جائے، دکانوں کے باہر رکھا ہوا سامان ضبط کر لیا جائے اور واپس نہ کیا جائے، داخلی و خارجی راستے چیک کیے جائیں، کم ہوں تو مزید بنوائے جائیں، کراچی کی بیش تر عمارتوں میں بجلی، گیس اور دیگر تاروں، کیبلز کو بہت ہی بے ہنگم طریقے سے کھلا چھوڑا ہوا ہے انہیں سلیقے سے کور کرایا جائے، دکانداروں کو دکانیں وقت پر بند کرنے کا پابند کیا جائے، وہ دکانیں صبح کھولنے پر خود مجبور ہو جائیں گے، آج کل دکانیں دوپہر کو کھلتی ہیں اس طرح سورج کی قدرتی روشنی استعمال نہیں ہو پاتی اور رات کو روشنی کے لیے بجلی استعمال کی جاتی ہے اس طرح دکانداروں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، وہ گاہکوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

شہر میں ہر تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے پارکنگ پلازہ بنائے جائیں اور ان میں واش رومز کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں، شہر میں ایک بہت بڑا پارکنگ پلازہ موجود ہے جو قطعی طور پر ناکام ہو چکا ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا پلازہ بنانے والوں کے ذہن میں کیا تھا، کیا ان کا خیال تھا کہ زینب مارکیٹ، موبائل مارکیٹ صدر اور گل پلازہ ایم اے جنا ح روڈ میں شاپنگ کے لیے آنے والے لوگ بھی اس پارکنگ پلازہ میں گاڑیاں کھڑی کریں گے، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج کل لوگ چند فرلانگ بھی پیدل نہیں چلنا چاہتے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہر بڑی عمارت کی اپنی پارکنگ ہو اور سرکاری طور پر چھوٹے پارکنگ پلازا تھوڑی تھوڑی دور پر قائم کیے جائیں۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہو جاتا ہے ان کے لیے گل پلازہ کیا جائے کے لیے ا نے والے بھی اس

پڑھیں:

کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک

علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔

محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس