Jasarat News:
2026-06-03@04:14:27 GMT

سندھ: بیشتر مسائل کی جڑ ’’سسٹم‘‘

اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260127-03-5
’’کیا قیامت ہے، کیا مصیبت ہے، کہہ نہیں سکتے؍ کس کا ارماں ہے، زندگی جیسے کھوئی کھوئی ہے، حیراں حیراں ہے‘‘۔ قیامتیں، مصیبتیں کراچی والوں کا مقدر ہو گئی ہیں ایک قیامت کا ماتم جاری ہوتا ہے کہ دوسری برپا ہو جاتی ہے، ایک مصیبت کا رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ دوسری، تیسری، چوتھی نازل ہو جاتی ہیں، کراچی کے عوام ڈمپروں، ٹینکروں اور ٹرکوں سے کچلے جانے، کھلے گٹروں، ٹوٹے نالوں میں گر کر مرنے پر آہ و بکا کر رہے تھے کہ گل پلازے کا سانحہ ہو گیا، ہنستے کھیلتے، زندگی سے بھرپور مرد، عورتیں، بچے چند گھنٹوں میں کوئلہ بن گئے ٹکڑوں میں بٹ گئے، درجنوں لوگ شہید ہو گئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کا ابھی تک پتا ہی نہیں چل رہا وہ کہاں ہیں بچ گئے یا اینٹ پتھر کے ملبے میں مل گئے۔

مجرموں کا تعین کرنا ایسا مشکل تو نہیں لیکن ہو نہیں سکے گا کیونکہ صوبہ سندھ میں سرکاری سسٹم کے اوپر ایک ’’سسٹم‘‘ نافذ ہے جو سرکاری سسٹم سے بھی زیادہ مضبوط ہے پورے صوبے کے لیے یہ سسٹم بدترین عذاب کی شکل ہے، سندھ میں مسائل کے حل اور ترقی کے لیے اس سسٹم کا خاتمہ ضروری ہے، اس سسٹم کو کوئی توڑ نہیں سکتا کیونکہ جس نے یہ سسٹم بنایا ہے وہ خود حکمران ہے اور ’’اصل حکمران‘‘ کی سر پرستی بھی اسے حاصل ہے بلدیاتی حکومت اور صوبائی حکومت مکمل طور پر پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وفاقی حکومت میں وہ ساجھے دار ہے انصاف ہوگا، نہیں ہوگا، کب ہوگا یہ الگ بات ہے لیکن اس سانحے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات لوگوں نے لوگوں کے دل چیر دیے ہیں، سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی اسپیکر اور قومی اسمبلی کی موجودہ رکن سیدہ شہلا رضا زیدی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ آگ ہے ہو جاتا ہے‘‘ ہائے کیا سفاکی ہے، آگ ہے ہو جاتا ہے، خدانخواستہ کوئی بڑی سیاسی شخصیت آگ میں جل جائے تب بھی وہ ایسا کہہ سکتی ہیں، ہرگز نہیں کہہ سکتیں، محترمہ کے دو بچے کئی برس قبل حادثے میں شہید ہوئے تھے آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو وہ اور ہر سننے والا افسردہ ہو جاتا ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اس المیہ پر استعفا نہ دیتے لیکن استعفے کا مطالبہ کرنے والوں پر لعن طعن تو نہ کرتے، بار بار غصے کا اظہار تو نہ کرتے، وہ بابائے شہر ہیں لوگ ان سے سوال نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کا لب و لہجہ بھی اس کا عکاس ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گل پلازہ پر کسی کو سیاست نہیں کرنی چاہیے انہوں نے گل پلازہ کی لیز، تعمیر، توسیع اور دیگر حوالوں سے کراچی کے سابق میئرز عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان اور فاروق ستار کے نام لیے لیکن موجودہ میئر کا نام نہیں لیا کیونکہ اس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، گل پلازہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، کیا جو اس المیہ پر بات کر رہا ہے وہ سیاست کر رہا ہے؟

گل پلازہ میں سیکڑوں اضافی دکانیں تعمیر کر لی گئیں، راستوں کو گھیرا گیا ان سب کی روک تھام کون کرتا ہے؟ کون تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتا ہے؟ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنانے والے بتائیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے فرائض کیوں انجام نہیں دیے اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے ایک ایک شخص کو پتا ہے کہ یہ ادارہ بڑے صاحبان کی اے ٹی ایم ہے اس لیے اس کا کام غیر قانونی تعمیرات کو روکنا نہیں مال بنانا ہے، پیسے لینا اور اجازت دینا، پورے شہر میں جہاں پہلے ایک بنگلہ یا مکان ہوتا تھا آج وہاں 20، 20 منزلہ عمارتیں ہیں اور ان میں چھوٹے چھوٹے سیکڑوں فلیٹس بنے ہوئے ہیں، کیا ان عمارتوں کی اجازت دینے والے افسران سے پوچھا گیا کہ اے بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھنے والے عقلمند لوگو! پانی کی جو لائن، سیورج کی جو لائن ایک خاندان کے لیے ڈالی گئی تھی وہ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گی؟ شہر میں پانی موجود نہیں، ہو تب بھی اس کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی، گٹروں سے لازماً پانی اُبلتا رہے گا، گلیوں اور سڑکوں کو برباد اور عوام کو بیمار کرتا رہے گا، بجلی کی فراہمی کا نظام جو ایک خاندان کے لیے لگایا گیا تھا۔ سیکڑوں خاندانوں کا بوجھ کیسے برداشت کرے گا؟ آج شہر کے بیش تر علاقوں میں پانی، بجلی، گیس، سیوریج کے مسائل خوفناک شکل اختیار کر چکے ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سے اختیارات لے کر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بنانے والے بتائیں آج شہر کے گلی کوچوں، سڑکوں چوراہوں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں کیڑے مکوڑوں، مکھیوں، مچھروں، چوہوں کی بہتات ہو گئی ہے بچوں بڑوں میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، گھروں میں چوہے دندناتے پھرتے ہیں کوئی چیز ان سے محفوظ نہیں رہی۔ شہر کا امن تہ وبالا ہے، موٹر سائیکلیں، کاریں بڑے پیمانے پر چھینی جا رہی ہیں، ڈاکو اتنے بے خوف ہو گئے ہیں کہ لوگوں کو قتل کرنا ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا، معمولی سی مزاحمت پر وہ گولی مار دیتے ہیں۔ زمینوں پر قبضے تو پہلے بھی ہو رہے تھے اب ان مکانوں پر بھی قبضے ہو رہے ہیں جن میں لوگ برسوں سے آباد ہیں، اس مقصد کے لیے جعلی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں، سرکاری ادارے کے افسران تعاون کرتے ہیں۔

بڑی چھوٹی ہر سڑک پر تجاوزات قائم ہیں، ٹھیلے والے بیچ سڑک پر کھڑے ہیں، خود پولیس موبائل کو بڑی مشکل سے راستہ ملتا ہے لیکن پولیس بالکل لاتعلق ہے کیونکہ اس کا کام پیسے بنانا اور اوپر پہنچانا ہے، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے لیکن وزیراعلیٰ اور وزیروں کو شاید اس کا علم ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے گزرنے کے لیے پہلے سے سڑکیں کلیئر کرانے کا بے انصافی پر مبنی قانون موجود ہے اور اس پر 100 فی صد عمل ہوتا ہے سڑکیں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں موٹر سائیکل چلانے والے بیش تر افراد اور رکشوں میں سفر کرنے والے بہت سے افراد کمر کے امراض کا شکار ہو چکے ہیں لیکن وزیروں افسروں کو ان مسائل کا علم ہی نہیں کیونکہ ان کے لیے جدید ترین گاڑیاں دستیاب ہیں میری تجویز ہے کہ تمام وزیروں اور افسران سے کاریں واپس لے کر انہیں رکشوں (خاص ان کے لیے بنائے گئے نہیں عام رکشوں) میں سفر کرنے کا پابند بنا دیا جائے تو شہر کے بہت سے مسائل مہینے دو مہینے میں حل ہو جائیں گے۔

جو سانحہ ہو گیا اسے تو اب نہیں بدلا جا سکتا لیکن آئندہ ایسے سانحات نہ ہوں اس کے لیے اقدامات تو کیے جا سکتے ہیں اور ضرور کیے جانے چاہییں سب سے پہلے تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو متحرک کیا جائے، شہر کی تمام رہائشی اور تجارتی عمارتوں میں زیر زمین منزلوں میں بنی گئی دکانوں، گوداموں کو ختم کیا جائے اور یہ جگہ صرف گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے استعمال کی جائے، شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جو اضافی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں انہیں بغیر کسی استثنیٰ کے ختم کیا جائے، دکانداروں کو دکانوں کے باہر سامان رکھنے سے روکا جائے، دکانوں کے باہر رکھا ہوا سامان ضبط کر لیا جائے اور واپس نہ کیا جائے، داخلی و خارجی راستے چیک کیے جائیں، کم ہوں تو مزید بنوائے جائیں، کراچی کی بیش تر عمارتوں میں بجلی، گیس اور دیگر تاروں، کیبلز کو بہت ہی بے ہنگم طریقے سے کھلا چھوڑا ہوا ہے انہیں سلیقے سے کور کرایا جائے، دکانداروں کو دکانیں وقت پر بند کرنے کا پابند کیا جائے، وہ دکانیں صبح کھولنے پر خود مجبور ہو جائیں گے، آج کل دکانیں دوپہر کو کھلتی ہیں اس طرح سورج کی قدرتی روشنی استعمال نہیں ہو پاتی اور رات کو روشنی کے لیے بجلی استعمال کی جاتی ہے اس طرح دکانداروں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، وہ گاہکوں سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

شہر میں ہر تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے پارکنگ پلازہ بنائے جائیں اور ان میں واش رومز کی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں، شہر میں ایک بہت بڑا پارکنگ پلازہ موجود ہے جو قطعی طور پر ناکام ہو چکا ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا بڑا پلازہ بنانے والوں کے ذہن میں کیا تھا، کیا ان کا خیال تھا کہ زینب مارکیٹ، موبائل مارکیٹ صدر اور گل پلازہ ایم اے جنا ح روڈ میں شاپنگ کے لیے آنے والے لوگ بھی اس پارکنگ پلازہ میں گاڑیاں کھڑی کریں گے، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج کل لوگ چند فرلانگ بھی پیدل نہیں چلنا چاہتے، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ہر بڑی عمارت کی اپنی پارکنگ ہو اور سرکاری طور پر چھوٹے پارکنگ پلازا تھوڑی تھوڑی دور پر قائم کیے جائیں۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہو جاتا ہے ان کے لیے گل پلازہ کیا جائے کے لیے ا نے والے بھی اس

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا