سابق کپتان شعیب ملک نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
رمضان کی آمد سے قبل شوبز اور کھیلوں سے وابستہ متعدد معروف شخصیات عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا رخ کر رہی ہیں۔
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر شعیب ملک بھی حال ہی میں سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادا کیا۔
شعیب ملک نے خانہ کعبہ کے سامنے کھینچی گئی اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی اور کیپشن میں دعا کی کہ ’ہر مسلمان کو یہ روحانی کیفیت نصیب ہو، آمین‘۔
واضح رہے کہ شعیب ملک نے چند دن قبل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے چند روز قبل ہی اپنی دوسری اہلیہ، اداکارہ ثنا جاوید کے ساتھ دوسری شادی کی سالگرہ منائی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شعیب ملک
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔