پنجاب میں وفاق کی طرح ہائی سیکیورٹی زونز قائم کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب میں وفاق کے طرز پر ہائی سکیورٹی زونز کے قیام کے لیے قانونی پیش رفت کر لی گئی ہے۔
پنجاب اسمبلی میں پنجاب ہائی سکیورٹی زونز (اسٹیبلشمنٹ) ایکٹ 2026 پیش کر دیا گیا، جس کے تحت صوبے بھر میں مخصوص علاقوں کو ہائی سکیورٹی زون قرار دیا جا سکے گا جہاں احتجاج اور عوامی اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔
بل گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ مسودہ قانون کے مطابق صوبائی اور ضلعی سطح پر انٹیلیجنس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ صوبائی انٹیلیجنس کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری کریں گے جبکہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) ہوں گے۔
بل کے متن کے مطابق صوبائی کمیٹی، ضلعی کمیٹی کی نشاندہی پر کسی علاقے یا پورے ضلع کو بذریعہ نوٹیفکیشن ہائی سکیورٹی زون قرار دے سکے گی۔ ہائی سکیورٹی زون میں کسی بھی قسم کے عوامی اجتماع یا احتجاج کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم ضلعی کمیٹی کی سفارش پر صوبائی کمیٹی کے سیکریٹری عوامی اجتماع کے لیے مخصوص جگہ کا نوٹیفکیشن جاری کر سکیں گے۔
قانون کے تحت عوامی اجتماع کے لیے درخواست کم از کم 20 دن قبل متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو دینا لازمی ہوگی۔ ڈی سی پانچ دن کے اندر درخواست منظور یا مسترد کرنے کے مجاز ہوں گے اور یہ فیصلہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
درخواست مسترد ہونے کی صورت میں دو دن کے اندر ضلعی کمشنر کو اپیل کی جا سکے گی، جس کا فیصلہ پانچ دن میں کرنا لازم ہوگا۔ اگر اپیل بھی مسترد ہو جائے تو تین دن کے اندر سیکریٹری کو اپیل دائر کی جا سکے گی، جس پر سیکریٹری پانچ دن کے اندر فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ تاہم مسودہ قانون میں اس سیکریٹری کے محکمے کی واضح نشاندہی موجود نہیں۔
بل میں پولیس کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ احتجاج میں استعمال ہونے والا سامان ضبط کر سکے۔ ہائی سکیورٹی زون میں غیر قانونی عوامی اجتماع کرنے پر ایک سے تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے جبکہ ایسے اجتماع کے لیے مالی یا دیگر معاونت فراہم کرنے والوں کو چھ ماہ سے ایک سال قید اور تین لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ ہائی سکیورٹی زون میں احتجاج کرنے والوں کو ضمانت کی سہولت بھی حاصل نہیں ہوگی۔
بل کو دو ماہ کے لیے متعلقہ اسمبلی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو اپنی رپورٹ دو ماہ میں پیش کرے گی۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد بل پنجاب اسمبلی سے منظور کیا جائے گا جبکہ حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائی سکیورٹی زون انٹیلیجنس کمیٹی عوامی اجتماع دن کے اندر کمیٹی کی کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم