سقوط بنگال کے بعد جو یہاں رہ گئے ان کو مکمل حق دیا، ڈی جی پاسپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ سقوط بنگال کے بعد یہاں جو رہ گئے تھے ان کو مکمل حق دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا جس میں سٹیزن ترمیمی بل پر بحث کی گئی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹ نے بتایا کہ سقوط بنگال کے بعد جو لوگ یہاں رہ گئے تھے، ان کو مکمل حق دیا گیا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ 1971 کے بعد پاکستان آنے والوں کو شہریت دی جائے۔ اس موقع پر رکن کمیٹی ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی 1956 تک امیگریشن معاملات چلتے رہے۔ 1990 تک پاکستان آنے والے بنگالیوں کو شہریت لسٹ میں شامل کیا جائے۔
چیئرمین کمیٹی نے استفسار کیا کہ جو لوگ اب کسی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں رہ رہے ہیں تو ان کا کیا کرنا ہے۔ اس سوال پر وزارت قانون کی جانب سے جواب دیا گیا کہ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے، اگر حکومت تاریخ طے کر دے تو بل میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر ہی ممکن ہوگا، کیبنٹ کو فیصلہ کرنا ہوگا۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ 1971 کے بعد آنے والے بنگالیوں کا کچھ تو کرنا ہوگا، جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ یہ بل پاس ہوا تو پھر 1979 کے بعد آنے والے بھی اس کا ستعمال کریں گے۔ اس معاملے پر اپنی اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کر لیتے ہیں۔ پی پی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ شہریت کا بل تو سپریم کورٹ میں بھی چلتا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔