سری نگر: مساجد میں پولیس سروے، کشمیری مسلمانوں میں خوف اور تشویش
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں مقامی پولیس نے مساجد اور وہاں کام کرنے والے مذہبی رہنماؤں کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا جمع کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں امام، مؤذن، واعظ اور کمیٹی ممبران کے شناختی نمبرز، موبائل IMEI اور اہلِخانہ کی معلومات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: سری نگر : حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کو پھر نظربند کردیا گیا
یہ سروے ایک باقاعدہ سوالنامے کے ذریعے کیا جا رہا ہے اور کشمیری مسلمانوں میں خوف و بے چینی پیدا کر رہا ہے، کیونکہ مقامی سیاسی نمائندوں کی نگرانی نہیں ہے اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کی تفصیل پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ کئی رہنما اسے مذہبی آزادی اور پرائیویسی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔
متحدہ مجلس علما (MMU) نے اسے بے مثال اور مداخلت قرار دیا، اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ صرف کشمیری مسلمانوں کو ہدف بنا رہا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سروے کی وجہ سے خطبوں اور مذہبی تعلیمات پر خوف کا اثر پڑا ہے، اور نوجوان جو بغیر معاوضہ نماز کی قیادت کرتے ہیں، وہ اب ہٹ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی اہلکار سری نگر پہنچ گئے، غزہ اور گجرات کے قاتلوں کا گٹھ جوڑ بے نقاب
مساجد پر چھاپے اور پابندیوں کے بعد، اب ایک نیا خطرہ ابھرا ہے۔ ایک بزرگ نمازی عبدالرشید کہتے ہیں کہ جب خوف ہماری مساجد میں داخل ہوتا ہے، ہم صرف پرائیویسی نہیں کھوتے، بلکہ اپنی کمیونٹی کا دل بھی کھو دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس سروے، خوف اور تشویش سری نگر کشمیری مسلمان مساجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس سروے خوف اور تشویش
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔