وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی برطانیہ کے غیر سرکاری دورے کے دوران اے آئی کے ماہرین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی برطانیہ کے غیر سرکاری دورے کے دوران اے آئی کے ماہرین سے ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )وزیراعظم محمد شہباز شریف سے مصنوعی ذہانت کے سرکردہ ماہرین کے ایک اعلی سطحی وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں عالمی اداروں اور تنظیموں بشمول بلیک راک، یونیورسٹی آف کیمبرج، یونیورسٹی آف آکسفورڈ، ڈیلویٹ، اور دنیا کی معروف AI اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سینئر رہنما شامل تھے۔ملاقات میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب بھی موجود تھے۔
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قومی و اقتصادی ترقی کے لیے نئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل اور اقتصادی تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لیے عالمی مہارت بالخصوص بیرون ملک پاکستانیوں کی شمولیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو قومی ترجیحات، ادارہ جاتی صلاحیتوں اور جامع ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے حوالے سے نجی شعبے سے اشتراک پر بھرپور کام کر رہی ہیں۔
وفد کے اراکین نے پاکستان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر گفتگو کی۔اس موقع پر وزیر مملکت بلال بن ثاقب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے اب کوئی مستقبل کا تصور نہیں ہے بلکہ یہ حال کا سنہری موقع ہے اور حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی یے۔
وزیراعظم سے وفد کی ملاقات ڈیجیٹل تبدیلی، جدت طرازی کی ترقی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والی عوامی پالیسی کے طویل المدتی وژن اور بین الاقوامی سوچ رکھنے والے ادارہ جاتی شراکت داروں کو شامل کرنے کے لیے پاکستان کی وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآگ سے بچائو،سی ڈی اے کے تحت ابتدائی سروے مکمل ،فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کے معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کے مالکان کو نوٹسز جاری آگ سے بچائو،سی ڈی اے کے تحت ابتدائی سروے مکمل ،فائر سیفٹی اینڈ ہیزرڈ کے معیار پر پورا نہ اترنے والی عمارتوں کے مالکان... جاپان کے سفارت خانے کی ٹائم-لوپ کامیڈی “مانڈیز: سی یو ذس ویک ” کی فلم اسکریننگ کی میزبانی ڈپٹی وزیراعظم سے چینی سفیر جیانگ زایدونگ کی ملاقات تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا نوٹیفکیشن کے پی حکومت اور جرگہ کی مشاورت کے بعد جاری ہوا، خواجہ آصف قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے امریکہ کے سفارت خانے کی پولیٹیکل کونسلر کی ملاقات حماس کی ہتھیار ڈالنے کیلئے غیرمتوقع شرط؛ امریکا اور اسرائیل سر جوڑ کر بیٹھ گئے
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔