اسلام آباد(نیوزڈیسک)برفباری والے علاقوں میں شاہراہوں کی بحالی کیلئے این ایچ اے متحرک ہے، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایت پر مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے ، پھنسے مسافروں میں گرم کھانا اور چائے تقسیم بھی جاری ہے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ این ایچ اے کی حدود میں آنے والی تمام اہم شاہراہیں کلیئر ہیں، سوشل میڈیا پر زیر بحث سڑکیں متعلقہ صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام ہیں ۔

خدمت اور تحفظ کے جذبے کے ساتھ این ایچ اے کی فیلڈ ٹیمیں برفباری سے متاثرہ سڑکوں کے ساتھ شہریوں کی مدد میں بھی سرگرم ہیں ، حکام کے مطابق اسلام آباد – مری ڈوئل کیریج وے مکمل فعال ۔ این پچاس کچلاک،مسلم باغ سیکشن ٹریفک کیلئے کھلا ۔ این پچیس خوجک ٹاپ اور شیلہ باغ پر نمک کا چھڑکاؤ اور برف ہٹانے کا عمل جاری اور ٹریفک بحال ہے۔۔ اس شاہراہ کا لک پاس ، مستونگ اور خاد کوچہ سیکشن بھی کلیئر۔ این چالیس نوشکی کو بارش سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت کر کے ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔

سوات، شانگلہ، دیر، چترال میں این ایچ اے ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں، لواری ٹنل ، گرم چشمہ ، چکدرہ کالام اور الپوری بشام کی سڑکیں بحال ہیں ۔ گلگت بلتستان میں شاہراہِ قراقرم کا جی بی سیکشن ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھلا ہے۔ ​شاہراہ ریشم کا شمالی سیکشن بھی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر کلیئر ہے ۔ گلگت بلتستان سیکشن اور ناردرن اسٹریچ پر برف ہٹانے کا کام جاری اور ٹریفک رواں ہے ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی برفباری والے علاقوں میں شہریوں کو غیرضروری سفر سے گریز کی ہدایت ، ضروری آمدورفت کیلئے بھی گاڑیوں کے ٹائروں پر گرِپ چینز کے لازمی استعمال کا مشورہ دیا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایچ اے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار