پنجاب بھر میں رواں ماہ ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر 3لاکھ 45ہزار سے زائد شہریوں کو جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پنجاب بھر میں ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزیوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں تیز کر دی گئیں ،رواں ماہ ہیلمٹ کی خلاف ورزی پر 3 لاکھ 45ہزار سے زائد شہریوں کو جرمانے کئے گئے جبکہ لاہور میں 49 ہزار سے زائد چالان ٹکٹ جاری کئے گئے۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق موثر انفورسمنٹ کے باعث صوبہ بھر میں ہیلمٹ کی خلاف ورزیوں میں 85فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ہیلمٹ کے استعمال سے ہیڈ انجری کے واقعات میں 82فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔اسی طرح رواں ماہ بغیر سیٹ بیلٹ گاڑی چلانے پر 7ہزار سے زائد چالان ٹکٹ جاری کئے گئے، ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبہ بھر میں سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزیوں میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب محمد وقاص نذیر نے کہا کہ صوبہ بھر میں ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کی خلاف ورزیوں پر بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کی پاسداری کا مقصد صرف چالان کرنا نہیں بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔محمد وقاص نذیر نے کہا کہ حادثے کی صورت میں ہیلمٹ کا استعمال سر کو شدید چوٹ سے محفوظ رکھتا ہے، جبکہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور آگاہی مہمات کے باعث شاہراہوں پر نظم و ضبط میں اضافہ ہوا ہے۔ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنی اور دوسروں کی حفاظت کا ذریعہ بنائیں کیونکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری میں ہی ہم سب کی سلامتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔