حماس کی ہتھیار ڈالنے کیلئے غیرمتوقع شرط؛ امریکا اور اسرائیل سر جوڑ کر بیٹھ گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
حماس کی ہتھیار ڈالنے کیلئے غیرمتوقع شرط؛ امریکا اور اسرائیل سر جوڑ کر بیٹھ گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
غزہ (آئی پی ایس )حماس نے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غیرمسلح ہونے کے لیے ثالثوں کے سامنے نئی شرط رکھ دی۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعوی کیا ہے کہ حماس نے غزہ حکومت کے اپنے سرکاری ملازمین کو ایک خط بھیجا ہے۔یہ خط رائٹرز نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ جس میں 40 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ NCAG کے ساتھ تعاون کریں۔
حماس نے خط میں ملازمین کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان تمام اہلکاروں کو ٹرمپ منصوبے کے تحت بنائے گئے نئے انتظامی ڈھانچے میں شامل کروانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ان ملازمین میں حماس کی تقریبا 10 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بھی شامل ہے جو جنگ بندی کے بعد سے ان علاقوں میں گشت کر رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اپنا اثر و رسوخ قائم کیا ہے۔
خیال رہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی غزہ کی نئی انتظامیہ میں شمولیت کا یہ مطالبہ اس سے پہلے کبھی حماس کی جانب سے سامنے نہیں آیا ہے۔رائٹرز نے اس معاملے پر اسرائیل کا موقف لینے کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے رابطہ کیا لیکن فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔چنانچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اسرائیل غزہ کے اِن سویلین اور سیکیورٹی اہلکاروں کی NCAG میں شمولیت کو قبول کرے گا یا نہیں۔
البتہ اسرائیل غزہ کے مستقبل میں حماس کے کسی بھی کردار کو سختی سے مسترد کرتا آیا ہے۔دوسری جانب حماس کے حمایت یافتہ مقامی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس مطالبے کا علم ہے اور وہ اس پر صلاح مشورے کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ غزہ میں حماس کی اپنی 10 ہزار رکنی پولیس فورس کو آئندہ انتظامی ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوششیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب تنظیم کی اسرائیل کے ساتھ ہتھیار ڈالنے سے متعلق اہم بات چیت متوقع ہے۔
رائٹرز کے بقول ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ حماس یہ مطالبہ امریکا کے سامنے رکھی گی جو غزہ میں ایک نیا فلسطینی انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوششیں کر رہا ہے۔غزہ میں 2023 سے جاری جنگ کا خاتمہ امریکی صدر اور ثالثوں کی کوششوں سے گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ہوا تھا۔اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں حماس نے تمام اسرائیلی زندہ یرغمالیوں کو واپس کردیا جب کہ مر جانے والے یرغمالیوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے کردیں۔
جس کے بعد دوسرے مرحلے میں غزہ میں امورِ مملکت چلانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ایک بورڈ آف پیس تشکیل دیدیا گیا ہے۔اس بورڈ کے تحت غزہ کا نظم و نسق ایک کمیٹی نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) کے حوالے کردیا جائے گا جو ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک ادارہ ہوگا۔
اس طرح غزہ کے امورِ مملکت عملی طور پر امریکی نگرانی میں کام کرے گا اور جس میں حماس کی باضابطہ شمولیت شامل نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ حماس اب بھی غزہ کے تقریبا نصف علاقے پر عملی کنٹرول رکھتی ہے اور حماس چاہتی ہیں کہ اس کے سرکاری ملازمین اور اہلکار نئی انتظامیہ میں شامل ہوں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا عمران خان سے ملاقات سے انکار چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا عمران خان سے ملاقات سے انکار بھارت کی ایک اور ناکامی، بنگلادیش نے چٹاکانگ میں انڈین اکنامک زون منصوبہ منسوخ کردیا وزارتِ خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا قبضہ ہے: پاکستان وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس درست قرار دے دیا, ہائیکورٹس کا فیصلہ جزوی کالعدم افغانستان سے تجارت صرف قانونی طریقے سے ممکن ہے، انوار الحق کاکڑCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حماس کی
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔