بیرسٹر گوہر کا اجازت ملنے کے باوجود عمران خان کے ساتھ ملاقات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت ملنے کے باوجود جیل سے واپس روانہ ہو گئے۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہ ملی، بہنوں کی جیل کے قریب قرآن خوانی
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیل انتظامیہ نے بیرسٹر گوہر کو ملاقات کی اجازت دی تھی، تاہم انہوں نے اکیلے ملاقات کرنے سے انکار کردیا۔
بیرسٹر گوہر نے درخواست کی کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ ایک فیملی ممبر یا وکیل بھی موجود ہوں۔
اطلاعات کے مطابق بیرسٹر گوہر کو جیل کے داخلی دروازے تک آنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہاکہ عمران خان کے احکامات کے مطابق محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر فیصلہ کریں گے کہ مذاکرات کب اور کس کے ساتھ کیے جائیں۔
انہوں نے کہاکہ انہیں میڈیا کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ میں انفیکشن ہے، اور اگر یہ درست ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔
مزید پڑھیں: مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور ناصر عباس کے پاس، وہی فیصلہ کریں گے، بیرسٹر گوہر
انہوں نے واضح کیا کہ فیملی ملاقاتوں پر سیاست کا اثر نہیں ہونا چاہیے اور پچھلی ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اکیلے ملاقات نہ کرنے کا کہا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ملاقات سے انکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی ا ئی ملاقات سے انکار وی نیوز بیرسٹر گوہر انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز