ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: جیسن گلیسپی نے بنگلا دیش کی حمایت سے متعلق اپنا ٹویٹ کیوں ڈیلیٹ کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کے نکالے جانے پر جیسن گلیسپی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی اور بعد میں اس کو ڈیلیٹ کر دیا۔
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر اور پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے وضاحت کی ہے کہ انہوں نے وہ پوسٹ کیوں ڈیلیٹ کی جس میں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے فیصلے پر سوال اٹھا رہے تھے کہ بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے کیوں خارج کیا گیا۔
گلیسپی نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوسٹ ایکس سے اس لیے ہٹا دی کیونکہ انہیں بدسلوکی اور جارحانہ تبصروں کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے ایک سادہ اور منطقی سوال پوچھا تھا۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹویٹ اس لیے ڈیلیٹ کی کیونکہ مجھے ایک سادہ سا سوال پوچھنے پر بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیںجیسن گلیسپی کی پاکستان کرکٹ میں واپسی کا امکان، کس ٹیم کے ہیڈکوچ ہوں گے؟
Jason Gillespie deleted his post on X today in which he questioned the ICC for not allowing Bangladesh to play outside India.
اس تنازع کی شروعات اس وقت ہوئی جب آئی سی سی نے بنگلا دیش کو ورلڈ کپ کے مرکزی ایونٹ سے خارج کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا۔ یہ فیصلہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے بھارت جانے سے انکار اور سیکیورٹی خدشات کے بعد سامنے آیا تھا۔
گلیسپی نے اپنی حذف شدہ پوسٹ میں سوال کیا تھا کہ بنگلہ دیش اپنے میچز بھارت سے باہر کیوں نہیں کھیل سکتا تھا، خاص طور پر جب گزشتہ مواقع پر بھارت کو پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار پر غیر جانبدار مقامات پر کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔
چند گھنٹوں میں ہزاروں منفی اور جارحانہ تبصروں کے بعد گلیسپی نے پوسٹ کو ہٹا دیا جس نے سوشل میڈیا پر کافی بحث اور توجہ حاصل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جیسن گلیسپی بنگلا دیش گلیسپی نے انہوں نے ورلڈ کپ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔