پاکستان میں سردی کی لہر اوربرفباری ’’لانینا‘‘ کا متحرک ہونا قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کراچی:
ال نینا اور لانینا بحرالکاہل کی اتھاہ گہرائیوں اورٹھاٹھیں مارتے سمندرسے جڑی موسمیاتی اصطلاحات ہیں جو پاکستان سے ہزاروں میل دوری کے باوجود شدید گرمی، سخت سردی، بارشوں کی کمی اورتباہ کن سیلابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
ال نینا سمندرکے زیادہ درجہ حرارت جبکہ لانینا سمندرکے سرد ہونیکی علامت ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اورپلیٹ فارمز پر صارفین نے کراچی سمیت ملک بھرمیں سردی کی لہر اوربرفباری کولانینا کے متحرک ہونا قراردیا، محکمہ موسمیات نے اس تاثرکی نفی کردی۔
موسم سرمامیں متحرک لالینا بارشوں کا راستہ روک دیتی ہے، ملک میں حالیہ بارشیں اس بات کی علامت ہے کہ لالینا کمزورہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹروترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیرضیغم نے کہا ہے کہ آج کل مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرخبرداریہ عام سردی نہیں ہے اورکیا آپ لانینا سے واقف ہے؟
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جوعالمی موسمیاتی نظام میں معمولی سی تبدیلی سے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں، بحرالکاہل میں پیدا ہونیوالے دو موسمی مظاہرے ال نینا اورلانینا بظاہر ہزاروں میل دورہیں، مگران کے اثرات پاکستان میں شدید گرمی، سخت سردی، بارشوں کی کمی اورتباہ کن سیلابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
مزید پڑھیںموسمیاتی تبدیلیاں اور بارشیں
انجم نذیرضیغم کے مطابق یہ تاثرقطعی غلط ہے کہ لانینااس وقت طاقتورہے،حقیقت یہ ہے کہ لانینا بتدریج کمزورہورہاہے اورفروری میں یہ مکمل طورپرنیوٹرل ہوجائیگا، اگرلانینا فعال ہوتا تو کبھی بھی موسم سرما میں ملک کے مختلف شہروں میں بارشیں نہیں ہوتیں،کیونکہ سرمامیں لانینا کا فعال ہونا بارشوں کا سلسلہ روک دیتا ہے۔
ال نینا کے دوران ملک میں گرمی کی شدت بڑھ جاتی ہے، ہیٹ ویوزکا دورانیہ طویل ہو جاتا ہے اوربارشیں کم ہو جاتی ہیں، خصوصاً سندھ اوربلوچستان کے کئی علاقے خشک سالی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے زرعی پیداوارمتاثراورپانی کا بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
لانینا کے اثرات صرف بارشوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ سردیوں میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں، ملک کے بالائی علاقوں میں شدید سردی اورغیرمعمولی برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں سرد ہواؤں کا راستہ ہموارہو جاتا ہے، جس سے معمولات زندگی متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کے غیرمعمولی صورتحال کا دوش صرف ال نینا یا لا نینا کو نہیں دیا جاسکتا، اس سے بھی کئی گنا بھیانک سچ موسمیاتی تبدیلی ہے، جس نے ان قدرتی آفات کوشدید اورغیرمتوقع بنا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ال نینا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔