Jasarat News:
2026-07-24@03:23:16 GMT

سٹی کونسلرز جماعت اسلامی خواتین کا گل پلازہ کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260128-08-11
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ناظمہ جماعت اسلامی کراچی اور سٹی کونسلر جاوداں فہیم کی قیادت میں سٹی کونسل کی خواتین اراکین نے گل پلازہ کا دورہ کیا اور سانحے سے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صبر و حوصلے کی تلقین کی۔بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے سٹی کونسلر اور ناظمہ کراچی جاوداں فہیم نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا باعث ہے۔ دکھ کی اس گھڑی میں ہم متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہر کراچی کی ناگفتہ بہ صورتحال کے باعث ایک کے بعد ایک المناک حادثات جنم لے رہے ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ حکومت کی رِٹ کہیں نظر نہیں آتی، اور گل پلازہ جیسا بڑا سانحہ سندھ حکومت اور میئر کراچی کی سنگین غفلت کا ثبوت ہے، جس پر انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔جاوداں فہیم نے کہا کہ‘‘جینے دو کراچی کو مارچ’’اس وقت کراچی کے ہر دکھی دل کی آواز بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شارعِ فیصل پر شہر کی بیٹیاں، بہنیں اور مائیں اپنے دلوں کے جذبات اور احساسات کے ساتھ پہنچیں گی، جو شہر میں رائج کرپٹ نظام کو بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔ انہوں نے خواتین اور نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں مارچ میں شرکت کریں۔گل پلازہ کے دورے کے موقع پر سٹی کونسلر ندیمہ تسنیم، فریحہ اشرف، تنویر فاطمہ، عذراجمیل، خدیجہ سراج، فرحانہ اورنگزیب و دیگر بھی موجود تھیں جبکہ نائب ناظمہ کراچی فرح عمران،سیکرٹری اطلاعات کراچی ثمرین احمد، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات سعدیہ طاہر اور عالیہ خالد بھی وفد میں شامل تھیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار