سانحہ گل پلازا، سندھ حکومت سے تعاون کیلئے تیار ہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ گل پلازا سانحے میں سندھ حکومت کو مدد چاہیے تو تعاون کے لیے تیار ہیں۔
بلڈنگ سیفٹی اجلاس سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ سانحہ گل پلازا پر متاثرین، اہل کراچی اور سندھ حکومت کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازا کے متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، سندھ حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ لاہور میں ہوٹل میں لگی حالیہ آگ پر بروقت قابو پالیا گیا کہ سسٹم آپریشنل تھا، ریسکیو کی بروقت کارروائی قابلِ تعریف ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کا پورے پنجاب میں یہی رسپانس ہونا چاہیے، فائر فائٹنگ کے تمام آلات فعال اور اپ گریڈ ہونے چاہئیں۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ عمارتوں کے تحفظ کے لیے ایس او پیز جاری کیے گئے ہیں، زیر تعمیر عمارتوں میں سیفٹی اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں، اب ہر کوئی فائر ہائیڈرنٹ لگائے گا، یقینی بنائیں اس کی قیمت 3 ماہ نہ بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز موک ایکسرسائز کا انعقاد باقاعدگی سے یقینی بنائیں، ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلیے فرضی مشقیں بھی کی گئی ہیں۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب اور وزراء نے آفیشل ورکشاپ ’ایمپاورنگ پنجاب ود اے آئی‘ میں شرکت کی۔
انہوں نے صوبے بھر کے اسکولوں میں آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا استعمال لازمی قرار دیا ہےاور ساتھ ہی پنجاب میں گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ حکومت مریم نواز گل پلازا نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘