data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امیر کراچی منعم ظفر خان و دیگر رہنماؤں کے ساتھ منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل صوبائی کنٹرول میں ہے اور نہ وفاقی کنٹرول میں بلکہ آئین کے تحت صرف بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہی واحد حل ہے۔ جس کے ماتحت تمام ادارے ہوں، ایک بار پھر کہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مراد شاہ کا اب کوئی اخلاقی جواز نہیں رہ گیا ہے،انہیں فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیے،بلاول زرداری دنیا بھر میں پھرتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ان کا مزاج نیویارک اور لندن وغیرہ سے ملتا ہے،انہیں پتا ہے کہ استنبول کی بلدیاتی حکومت کے اختیار میں ماسٹر پلان،فائر بریگیڈ، تعمیرات، ٹرانسپورٹ، سیوریج، پانی، فلڈپلانٹس، تعلیم، روزگار، قرضے جاری کرنا، لوگوں کی فلاح وبہبود ہے، اسے کہتے ہیں بلدیاتی حکومت، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے تو سارے اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے،عوام کے ووٹوں کی توہین کرکے قبضہ نظام نہیں چل سکتا،کراچی کا اختیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا چاہیے،آج عوام سندھ حکومت سے نالاں ہیں، کل وفاق کے خلاف آواز اٹھائیں گے،دنیا کے تمام بڑے شہروں میں بااختیار بلدیاتی نظام کامیاب ہے،لندن اور نیویارک مغرب میں، تہران اور استنبول مسلم دنیا میں کامیاب مثالیں ہیں،کراچی کے شہری آج بھی 2001 تا 2005 کے دور کو سنہری دور کہتے ہیں،نعمت اللہ خان کی قیادت میں سٹی گورنمنٹ نے کراچی کو درست سمت دی،کراچی کے مسائل کا حل مقامی بااختیار حکومت کے بغیر ممکن نہیں،اہل کراچی نے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کو منتخب کیا مگر دھاندلی کے ذریعے پیپلز پارٹی کا میئر مسلط کیا گیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑے گی۔جماعت اسلامی یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر ’’جینے دو کراچی کو‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان مارچ منعقد کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں کاروباری اور جنگی ہیں۔ ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد بورڈ آف پیس کو مسترد اور پاکستان کی شرکت قبول نہیں کرتے،ٹرمپ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ امریکا کی غلامی پاکستان کو پہلے بھی ڈیڑھ سو بلین ڈالر کا نقصان دے چکی ہے اور اب دوبارہ اسی راستے پر چلنا قومی مفادات کے خلاف ہے۔ قائداعظم کی پالیسی واضح تھی کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن مزید نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پورے ملک بالخصوص کراچی میں مایوسی اور بے بسی کی کیفیت ہے۔ اب تک 83 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات آچکی ہیں اور اہل کراچی یہ محسوس کررہے ہیں کہ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں۔ نہ وفاق کو دلچسپی ہے اور نہ صوبائی حکومت کو، دونوں صرف کراچی سے وسائل لوٹنے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ 17 برس سے پیپلز پارٹی سندھ پر قابض ہے اور تقریباً ہر دور میں ایم کیو ایم اس کی شریک اقتدار رہی ہے۔ ہر سانحے کے بعد یہ نورا کشتی شروع کردیتے ہیں اور مسائل کے حل کے بجائے ایسی نعرے بازی کرتے ہیں جس سے تفریق اور تعصب کو فروغ ملتا ہے تاکہ ان کی سیاست چلتی رہے۔جب ان کے پاس جواب نہیں ہوتا تو عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان پر بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں، حالانکہ یہ تمام الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ اس وقت شہر بھر میں زمینوں پر قبضے کا دھندا عروج پر ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کوئی اخلاقی جواز باقی نہیں رہا، انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایک گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد پوری صوبائی حکومت کے پاس آگ بجھانے کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا۔ کے ایم سی کے ماتحت فائر بریگیڈ کے فائر فائٹرز کے پاس مکمل حفاظتی آلات (PPE)، اسپیشل ماسک اور ریسکیو کا جدید سامان موجود نہیں۔ تقریباً 11 سال سے ان کی باقاعدہ تربیت نہیں ہوئی۔ اب صوبائی حکومت فائر بریگیڈ کو بھی اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہی ہے جو اس قبضہ مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جس کی وجہ سے کراچی ترقی نہیں کرسکا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کی قسمت میں گٹروں میں گرنا، بارشوں میں بہہ جانا اور ہیوی ٹریفک کے نیچے کچلے جانا رہ گیا ہے۔ کھنڈر بنی سڑکیں شہریوں کی ہڈیاں توڑ رہی ہیں، منصوبے مکمل نہیں ہو رہے، دھول اور مٹی سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبہ جو 2005 میں شروع ہوا تھا، آج 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکا۔ کے سی آر، گرین لائن اور ریڈ لائن منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ ریڈ لائن منصوبہ جسے 2024 میں مکمل ہونا تھا، آج بھی نامکمل ہے اور 79 ارب کا منصوبہ 300 ارب تک جا پہنچا ہے۔ یہ منصوبے اہل کراچی کے لیے سہولت کے بجائے تباہی کا سبب بنے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کو 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے مگر چند بسیں چلا کر دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہوگیا۔ وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن بسوں سے زیادہ اشتہارات چلوارہے ہیں۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ اتھارٹی بنا دیا گیا اور گزشتہ5 سال میں ایک لاکھ عمارتیں بنیں جن میں 85 ہزار غیر قانونی ہیں۔کراچی پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، یہ منی پاکستان ہے اور اس کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی ہے۔ اب وڈیرا شاہی نظام سے نجات ناگزیر ہے۔پریس کانفرنس میں نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ، نائب امیر کراچی مسلم پرویز، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری و ددیگر بھی موجود تھے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی صوبائی حکومت نے کہا کہ کراچی کے کے پاس ہے اور

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو