غزہ امن بورڈ یا مسئلہ فلسطین کی لوح ِ مزار؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ امن بورڈ کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ یہ بورڈ ٹرمپ کا انتخاب، ٹرمپ کی قیادت اور ٹرمپ کے مقاصد پر مبنی ہے۔ ٹرمپ ہی اس بورڈ کا اوّل بھی ہے اور آخر بھی۔ اس کے مقاصد کا تعین بھی وہی کررہے ہیں اور اس کے اندر داخلے کی اجازت کا فیصلہ بھی انہی کے ہاتھ ہے۔ وہ اس کے تاحیات سرپرست ہیں۔ اس بورڈ کی رکنیت کے لیے ٹرمپ نے ایک ہی سلیبس مقرر کیا ہے۔ اہلیت کا ایک ہی پیمانہ ہے کہ وہ جو حماس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور وہ جو حماس کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ جن کے بارے میں بھی کسی دور میں ٹرمپ کو یہ شک گزرا کی حماس کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث رہے ہیں انہیں ٹرمپ نے اس بورڈ کے قریب پھٹکنے نہیں دیا اور جن کے بارے میں یہ گمان تھا کہ ماضی میں اچھے بچے بن کر رہے ہیں اور آئندہ بھی اس معاملے میں ہر خدمت بجالائیں انہیں اس بورڈ کی بیرونی پرت کا حصہ بنایا گیا۔ قضیے کا سب سے مظلوم مگر سب سے مضبوط حصہ فلسطینی عوام اس بورڈ سے اچھوت کی طرح دور رکھے گئے ہیں۔ بورڈ میں ایک کے سوا تمام ارکان امریکی ہیں۔ وہ بھی ایک برطانیہ کے ٹونی بلیئر ہیں۔ بورڈ میں کسی مسلمان اور کسی فلسطینی کو رکنیت کا اہل نہیں سمجھا گیا۔ گویاکہ اسرائیل کے پسندیدہ اور امریکا کے چنیدہ مسلمان ملکوں کے نمائندوں کا رول کسی قوال کے ہمنواؤں سے زیادہ نہیں۔ ہر سْر اور تال پر انہیں شامل بھی ہونا ہے اور تالی بھی بجائی جانی ہے۔ ترکی اور قطر وہ دو ممالک تھے جن کی اس بورڈ میں شمولیت پر اسرائیل نے اس بنا پر اعتراض کیا تھا کہ ان ملکوں کے حماس کی قیادت کے ساتھ تعلقات تھے۔ اس کے باوجود بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں ترکی کے نمائندے اپنے پاکستانیوں بھائیوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے۔ اگر ترکی اور قطر اس بورڈ میں شامل بھی ہوتے تب بھی کوئی قیامت نہیں آنا تھی۔
گزشتہ برس جب اسرائیل بے رحمی کے ساتھ اہل ِ غزہ کا قتل عام کر رہا تھا اور ان کی بستیاں اْجاڑ رہا تھا تو برادر اسلامی ملک کے راستے آذر بائیجانی تیل کی ترسیل نہ صرف جاری تھی بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق 2025 میں چورانوے ہزار بیرل روزانہ کی بنیاد پر تیل کی اس رسد میں اکتیس فی صد کا اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آذر بائیجان اسرائیل کو تیل فراہم کر نے والا سب بڑا ملک بن گیا۔ آئل ٹینکرز نے اپنی منزل کی شناخت بدلنے کے لیے قبرص اور مصر کے بورڈ آویزاں کیے رکھے مگر ترکی کے راستے ان کی منزل اسرائیل تھی۔ اس ایک دل خراش کہانی میں تو کئی اور داستانیں بھی پنہاں ہیں جن کا ذکر مناسب نہیں۔ اب امریکا نے فلسطینیوں کو مائنس کرکے غزہ کو ایک بڑے کاروباری اور رہائشی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ پر پہلا قدم رکھ دیا ہے۔ یہ وہ دن تھا جو اہل غزہ نے بہت پہلے ہی اپنی باطنی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے اس دن کو ٹالنے کے لیے طوفان الاقصیٰ کا خودکش مگر حتمی وار کیا تھا۔ غزہ کا ساحل اور اس کی زمینیں امریکا اور اسرائیل کو کھٹک رہے تھے۔ ایرانی قیادت نے بہت پہلے ہی کہا تھا کہ امریکا براہِ راست غزہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ حماس نے ایک موہوم امید پر موت میں زندگی تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر افسوس کہ وہ حالات کا دھارا بدل نہ سکے کیونکہ ان کے حامی اور مددگار ایک ایک کرکے تباہ ہوتے چلے گئے۔ ایران حماس کا آخری اعلانیہ مدد گار تھا۔ حماس کی اپنی قیادت، حزب اللہ اور یمنی حوثیوں کو کچلتے کچلتے اسرائیل نے اس آخری چراغ کو بھی اس وقت بجھا دیا جب شام میں بشار الاسد کی حکومت گرادی گئی۔ بشار الاسد کے مظالم اور کردار اپنی جگہ مگر وہ ایران اور حماس کے درمیان رابطے کا واحد ذریعہ تھے ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ رابطہ ختم ہوگیا اور حماس اور اہل غزہ کا گھیرا مکمل ہو گیا۔
اسرائیل نے اس وقت تک جنگ بندی سے انکار کیا جب تک کہ غزہ مکمل کھنڈرات میں تبدیل نہ ہوا اور اس علاقے کی صفر سے تعمیر نو کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اب غزہ کے پچاس فی صد رقبے پر اسرائیل کی فوجی تنصیبات ہوں گی اور باقی پچاس فی صد رہائشی اور کاروباری علاقہ ہوگا وہ بھی اس انداز سے کہ اس میں فلسطینیوں کی آبادی کا مکمل غلبہ نہیں ہوگا۔ غزہ والوں کے لیے ایک نیا قطعہ ٔ زمین بھی صومالی لینڈ کے نام سے اپنے طور پر تلاش کر لیا گیا ہے۔ چند دن قبل صومالیہ کے صدر شیخ محمود نے کہا تھا کہ ہمارے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق صومالی لینڈ کے ساتھ تین اہم نکات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ صومالی لینڈ میں فلسطینیوں کی دوبارہ آبادکاری، صومالی لینڈ میں خلیج عدن کے ساحل پر اسرائیلی فوجی اڈے کی فراہمی، صومالی لینڈ کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت۔ صومالی صدر کا کہنا تھا کہ اگر یہ تینوں اقدامات عملی جامہ پہنتے ہیں تو دنیا میں ایک نیا پنڈورہ باکس کھل جائے گا۔ جس کے عالمی سطح پر غیر متوقع اور ممکنہ طور پر خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ صومالیہ کے صدر جس خدشے کا کھل کر اظہار نہیں کیا وہ یہی ہے کہ دنیا کے پرانے اور لاینحل تنازعات اور بے چین ومضطرب آبادیوں کے مسائل کا آخری حل یہ ہوگا کہ انہیں کسی ضابطے قاعدے کے تحت حل کرنے کے جھنجھٹ میں پڑے بغیر انتقال آبادی کا فارمولہ اپنایا جائے گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عالمی اسٹیبشلمنٹ کشمیر کو رفتہ رفتہ فلسطینی ماڈل کی عینک سے دیکھ رہی ہے اور ان کی سرپرستی میں بھارت نے اس راہ پر اچھا خاصا سفر طے کرلیا ہے۔ ایک تو غزہ بورڈ میں اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ مکمل بائی پاس ہوگیا۔
ٹرمپ ایک پورے عالمی ادارے کے مقابل اپنے رشتہ داروں اور دوستوں پر مشتمل ایک نیا پول کھڑا کر بیٹھا ہے تو دوسرا ایک مسلمہ عالمی تنازعے کو انتقال آبادی کے ذریعے حل کرنے کا نیا اصول اپنایا جانے لگا۔ ہم تو بزعم ِ خود غزہ امن بورڈ میں فلسطینیوں کو بچانے جارہے ہیں مگر کیا ٹرمپ نے اس بورڈ کے اغراض ومقاصد میں فلسطینیوں کو بچانا اور ان کی خواہشات کا احترام اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کا ذکر کیا ہے؟ ٹرمپ جیسا منہ پھٹ آدمی تو کہہ رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے باہر کے ایک ملک نے حماس کو غیر مسلح اور حزب اللہ کو تباہ کرنے کا یقین دلایا ہے۔ اس کا اشارہ کس جانب ہے؟ یہ پتا نہیں مگر شکوک کے بادل تو منڈلارہے ہیں۔ غزہ امن بورڈ جو حقیقت میں فلسطینیوں کی لوح ِ مزار ہے، میں دھوم دھام سے شرکت کرنے والے تاریخ کی غلط سمت میں جا کھڑے ہوئے ہیں۔ اس پر چند دن قبل المشہد ٹی وی پر سعودی اور امارات کی رواں کشمکش کے دوران ایک سعودی تجزیہ نگار ال عانی کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں ’’جب ہماری ریفائنری پر حملہ ہوا تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم نے امریکا سے کیا کہا اس نے کچھ نہیں کیا۔ آج جب ہم ایران کے ساتھ امن اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں امریکا مشکوک اقدامات کر رہا ہے۔ امریکا جنگ کی سلطنت ہے اور جنگ کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا‘‘۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ ہم جنگ کی اس سلطنت کے ساتھ نتھی ہو کر رہ گئے ہیں اور کسی بھی بے جا فرمائش پر حرف ِ انکار بلند کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر کھوچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں فلسطینیوں صومالی لینڈ ہیں اور کے ساتھ کرنے کا ہے اور اور ان کے لیے اور اس تھا کہ
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی