Jasarat News:
2026-06-02@22:44:02 GMT

ایک تھا گل پلازہ

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دل غموں سے چور ہے قلم میں لکھنے کی سکت نہیں کہ وہ گل پلازہ کی بربادی کا نوحہ لکھ سکے۔ میرے پیارے کراچی تمہیں کس کی نظر لگ گئی ہے۔ ایک کے بعد ایک سانحے نے تمہاری صبحیں خاموش، تمہاری شامیں اداس اور تمہاری راتیں گہنا دی ہیں۔ کوئی بھی حادثہ خواہ وہ آگ لگنے کی وجہ سے ہو یا بارش برسنے کی وجہ سے ہر بار حالات انتظامیہ کے قابو سے کیوں باہر ہو جاتے ہیں۔ حکومتی مشینری اول تو کہیں نظر نہیں آتی اور اگر آتی بھی ہے تو اتنی دیر سے کہ حادثہ سانحہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اے ارباب اختیار آخر کب کراچی والوں پر توجہ کی نظر ہوگی۔ کب تک وہ روتے تڑپتے بلکتے اور ہر سانحے کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرتے رہیں گے۔

کراچی کے قلب میں واقع گل پلازہ… آہ! کتنا خوبصورت نام ہے۔ وہ گل پلازہ جو لوگوں کی ہزاروں خواہشات کی تکمیل کیا کرتا تھا کسی کو کراکری لینی ہے، کپڑے خریدنے ہیں، گھر سیٹ کرنا ہے، بچی کی شادی کے لیے جہیز لینا ہے، بچوں کے لیے کھلونے لینے ہیں، پرفیوم خریدنے ہیں، دنیا میں آنے والے ننھے مہمان کی خریداری کرنی ہے ہر چیز کے لیے گل پلازہ اپنی بانہیں پھیلائے ان کو خوش آمدید کہتا تھا۔ کسی کو کیا خبر تھی سال 2026 گل پلازہ کے لیے تباہی و بر بادی کا پیغام لیے کھڑا ہے۔ آگ کے بے رحم شعلے دکانوں میں موجود سامان کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیں گے اور اس کے در و دیوار چٹخ کر زمین بوس ہو جائیں گے۔ اس کی آغوش میں نہ جانے کتنے خواتین، بچے اور جوان اپنی زندگی کو بے بسی سے اپنے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا دیکھیں گے۔ آخری سانس تک زندگی کی جدوجہد کرتے ہوئے لوگ پلازہ کے اندر اپنے پیاروں کو مدد کے لیے پکار رہے ہوں گے اور پلازہ کے باہر ان کے پیارے حسرت ویاس خوف اور امید کے درمیان تڑپ رہے ہوں گے۔ کاش گل پلازہ کو یہ معلوم ہوتا کہ وہ جس جگہ جس شہر میں قائم ہے وہاں جگہ جگہ تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک اتنا جام رہتا ہے کہ اگر حادثاتی طور پر آگ لگ جائے یا سازشی طور پر لگا دی جائے تو فائر بریگیڈکا عملہ بروقت نہیں پہنچ پائے گا اور اگر پہنچ بھی جائے تو اس کے پاس حفاظتی اقدامات کرنے کے آلات ہی نہیں ہوں گے۔ نہ ان کے پاس فائر سوٹ ہوں گے نا اسپیشل ماسک، نا فوم بس تھوڑا سا پانی ہوگا جو جلد ختم ہو جائے گا۔ ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ٹینکرز بھی بروقت نہیں پہنچ پائیں گے۔ کاش اسے یہ معلوم ہوتا کہ وہاں لوگ شاپنگ کے لیے آئیں گے تو آگ انہیں ایسے گھیر لے گی کہ ان کا پیارا گل پلازہ ان کے لیے دہکتا ہوا تندور بن جائے گا تو وہ خود ربّ سے دعا کرتا کہ ’’اے اللہ مجھے اس وقت نہ جلانا جب میرے اندر بچے، بزرگ، مرد اور خواتین خریدار موجود ہوں خاص کر وہ ننھا معصوم جسے ابھی دنیا میں آنا ہے اور وہ جسے ابھی دلہن کا لباس پہننا ہے‘‘۔

اگر آگ لگنے کے پہلے گھنٹے میں ہی اس پر قابو پا لیا جاتا تو اتنا بڑا حادثہ سانحہ نہ بنتا۔ چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ انہیں 10 بج کر 30 منٹ پر اطلاع ملی اور وہ بھی ایک 15 سالہ بچے نے انہیں اطلاع دی (حیرت ہے کسی بڑے کی عقل نے کام نہ کیا)۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اگر فائر بریگیڈ کے پاس بڑی سیڑھیاں ہوتیں تو اوپر کی کھڑکیاں توڑی جا سکتی تھیں۔ متعلقہ آلات ہوتے تو گرل اکھاڑی جا سکتی تھی دیواروں کو توڑا جا سکتا تھا۔ سارے دروازے بند تھے صرف دو دروازے کھلے تھے۔ جو وہاں کے دکاندار ہیں انہیں تو معلوم تھا کہ کون سے دو دروازے کھلے ہوں گے خریداروں کو اس کا کیا پتا۔ وہ معصوم اِدھر اُدھر دھوئیں اور اندھیرے میں بھاگتے رہے۔ افففف وہ بھیانک منظر… آنکھیں بند کر کے ہم خود کو کچھ دیر ان کی جگہ محسوس کریں تو معلوم ہوگا قیامت کس کو کہتے ہیں۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ لفظ کاش اب کراچی والوں کی کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ کاش موبائل snatcher کے حوالے کر دیتے تو جان بچ جاتی… کاش گھر سے باہر نہ نکلے ہوتے تو حادثہ نہ ہوتا، کاش ماں بچے کو گود میں اٹھا لیتی تو وہ مین ہول میں نہ گرتا۔ ان سب کے بیچ اگر ہم ایک اور کاش کا اضافہ کر لیں (اسے بد دعا ہرگز نہ سمجھا جائے) کاش گل پلازہ میں اس وقت کسی حکومتی اعلیٰ عہدے دار کی فیملی موجود ہوتی!!! تو پھر دیکھتے کہ ریسکیو کا کام کتنا تیز ہوتا۔ فوراً سے ہٹو بچو کا نعرہ لگتا تمام ٹریفک کو ایک طرف روک دیا جاتا۔ ٹینکرز کی لائنیں لگ جاتیں حتیٰ کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پانی برسا دیا جاتا اور آگ کو پہلے ہی گھنٹے میں قابو کر لیا جاتا لیکن۔ یہ صرف ایک دیوانے کا خواب ہو سکتا ہے کیونکہ وہ حکومت کے اعلیٰ عہدے دار ہیں ان کا عوام کے درمیان کیا کام؟؟

اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کراچی والوں کے لیے جا بجا جال بچھا دیے گئے ہیں کہیں نہ کہیں تو وہ trap ہوں گے ہی! پانی، بجلی، گیس کی بندش، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور بے ہنگم ٹریفک سے اگر بچ کے نکل گئے تو بھتا خوروں سے بچنا ہوگا ان سے بھی بچ گئے تو اسٹریٹ کرائم سے اپنے آپ کو بچانا ہوگا اس سے بھی بچ گئے تو نالے یا مین ہول میں گر کر مرنے سے بچنا ہوگا، اگر وہاں سے بھی بچ گئے تو شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی سے بچنا ہوگا۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا تھا now it is over (بس اب بہت ہوگیا)۔ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جنگل میں رہ رہے ہیں لیکن…

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے
تو وہ حملہ نہیں کرتا
درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے
ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں
تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر
کوے کے انڈوں کو پیروں میں تھام لیتی ہے
سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو
سارا جنگل جاگ اٹھتا ہے
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
خداوندا، جلیل و معتبر
دانا و بینا، منصف و اکبر
میرے اس شہر بے اماں میں بھی
ایسا جنگلوں کا ہی کوئی قانون نافذ کر

خدا کے لیے کراچی کے عوام کو جینے دیں۔ کراچی کے جو بھی کرتا دھرتا ہیں، ڈریں ان معصوم لوگوں کی کربناک چیخوں سے جو جلتے ہوئے گل پلازہ کے اندر سے نکل کر عرش تک پہنچی ہوں گی۔ ڈریں ان کے پیاروں کی سسکتی، بلکتی، آہ و زاری کرتی ان فریادوں سے جو انہوں نے کرب و بے بسی کی حالت میں گل پلازہ کی بلڈنگ کو گرتے ہوئے دیکھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنے ربّ سے کی ہوگی۔ سانحہ گل پلازہ کی ذمے داری کوئی نہیں لے گا سارے وزرا اور حکومتی عہدے دار ٹاک شوز میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھیراتے رہیں گے۔ نہ گل پلازہ کی انتظامیہ اس سوال کا جواب دے گی کہ فائر الارم کیوں نہیں بجے۔ گیٹ کیوں نہیں کھولے گئے۔ وقت گزرتا جائے گا۔ گل پلازہ یاد ماضی ہو جائے گا۔

کاش! کراچی کے عوام اپنے اندر اتنی ہمت و جرأت پیدا کرلیں کہ حکومت وقت سے ایسے حادثات و سانحات کی جواب طلبی کرسکیں۔ کاش! اس کے اندر وہ جوش و جذبہ بیدار ہو جائے کہ نا اہلی کی صورت میں انہیں اقتدار کی مسند چھوڑنے پر مجبور کر سکیں۔ کاش…! کاش…! کاش!!

روزینہ خورشید سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ کی کی وجہ سے پلازہ کے کراچی کے ہوتا ہے جائے گا گئے تو کے لیے سنا ہے نہیں ا ہوں گے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ

صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔

حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم