ٹنڈو جام : بغیر لائسنس والی ایل پی جی دکانوں کے خلاف کریک ڈائون
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹٹنڈوجام (نمائندہ جسارت )ٹنڈوجام میں بغیر لائسنس اور غیر قانونی طور پر چلنے والی ایل پی جی دکانوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا چھاپہ سیل تفصیلات کے مطابق مختیارکار تعلقہ حیدرآباد دیہی جنید احمد قاضی نے اپنے عملے کے ہمراہ ٹنڈوجام ناکہ اسٹاپ پر قائم بغیر لائسنس ایل پی جی دکان پر چھاپہ مار کر دکان کو سیل کر دیا۔ اس موقع پر مختیارکار جنید احمد قاضی نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کے غیر قانونی کاروبار کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا تعلقہ حیدرآباد دیہی کے مختلف شہروں میں بغیر لائسنس چلنے والی ایل پی جی دکانوں کے خلاف مہم جاری ہے، جس کے دوران متعدد غیر قانونی دکانوں کو سیل کیا جا چکا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بغیر لائسنس ایل پی جی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔