شہری کامعروف برانڈ “ماریا بی” اور کورئیر کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کنزیومر کورٹ شرقی میں آن لائن کپڑوں کے بجائے آٹے کی بوری بھیجنے کا معاملہ، شہری نے معروف برانڈ “ماریا بی” اور کورئیر کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا۔ شہری کی ماریا بی سے کپڑوں کی رقم اور دو لاکھ روپے بطور ہرجانہ دلوانے کی استدعا، عدالت نے دونوں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 31 جنوری تک جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزار کاکہنا تھا کہ یکم دسمبر کو “ماریابی” سے آن لائن کپڑے خریدے جو پچپن ہزار روپے سے زائد کے تھے۔ 4 دسمبر کو نجی کورئیر کمپنی نے آرڈر ڈیلیور کردیا۔ شہری حیران رہ گیا کے کپڑوں کے بجائے آٹے کی بوری کا پارسل گھر آیا تھا۔ شہری نے برانڈ سے ای میل اور کسٹمر سپورٹ کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ برانڈ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ لیگل نوٹس بھیجنے کے بعد برانڈ نے رابطہ کرکے رقم ری فنڈ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ کچھ عرصہ بعد برانڈ کی جانب سے رقم کے بجائے واؤچر دینے کی پیشکش کی گئی جو ایک فراڈ تھا۔ پچیس فیصد انٹرسٹ کے ساتھ رقم واپس دلوائی جائے۔ شہری کو اذیت سے دوچار کرنے کے عوض دو لاکھ روپے ہرجانہ دلوایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ