اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر بزنس کمیونٹی کی امنگوں پر پانی پھیر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آبا د(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے رہنمائوںپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ، میاںانوارلحق ایڈووکیٹ،میاںطاہرایوب نے اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود کو 10.5 فیصدپر برقرار رکھنے کے فیصلہ کو ملکی معاشی سرگرمیوں کیلئے زہرِ قاتل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ کاروباری اور صنعتی حلقوں کو توقع تھی کہ شرح سود میں کمی کرکے اسے سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے گا لیکن اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر بزنس کمیونٹی کی امنگوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے اس کے باوجود شرح سود کو برقرار رکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔یہ فیصلہ کاروباری برادری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہے۔ پالیسی ریٹ میں نرمی نہ کرنے سے روزگار کے مواقع، برآمدات اور سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو ان مشکل حالات میں ریلیف دینا ناگزیر تھا ،اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ کو 10.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بزنس کمیونٹی اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔