اسلام آباد:

وفاقی وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے اور رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

وزارت خزانہ کی آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں معاشی استحکام برقرار ہے اور موجودہ مالی سال 26-2025 میں ملکی معیشت کی رفتار برقرار رہنے کی توقع ہے۔


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام کو سہارا ملا ہے، رواں ماہ مہنگائی 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ دسمبر میں مہنگائی 5.

6 فیصد اور نومبر میں 6.1 فیصد تھی۔


وفاقی وزارت خزانہ نے بتایا کہ مہنگائی قابو میں ہے اور ایل ایس ایم کی نمو میں واضح بہتری آئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کے باعث مالی اور پرائمری سرپلس حاصل ہوا جبکہ ایل ایس ایم میں تیزی اور آئندہ مہینوں میں بہتر نمو کی امید ہے۔

اسی طرح ترسیلات زر مضبوط ہوا اور بیرونی کھاتوں کو سہارا ملا ہے، پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی آئی ہے، جس کی بدولت عالمی سطح پر بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں شامل ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے اکنامک گورننس ریفارمز کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اصلاحات کا مقصد ادارہ جاتی استحکام اور پائیدار ترقی ہے۔

اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں بڑی صنعتوں اور دیگر معاشی اشاریوں کی کارکردگی حوصلہ افزا قرار دی گئی ہے اور وزارت خزانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دانش مندانہ پالیسیوں اور اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، ترسیلات زر اور آئی ٹی و سروسز برآمدات میں اضافہ ہوا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے باعث مانیٹری پالیسی میں نرمی آئی تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ برقرار ہے مگر دباؤ محدود رہنے کی توقع ہے۔
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رپورٹ میں گیا ہے کہ مہنگائی 5 ہے اور

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ