وزارتِ خزانہ کا آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آئندہ ماہ متوقع ہیں جس کیلئے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔
تیسرے اقتصادی جائزہ کی تکمیل کی صورت میں پاکستان کوایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی، ذرائع کے مطابق پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزہ کیلئے تیاری تیز کردی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیٹا بھی شیئر کردیا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، تیسرا اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط ملے گی۔
وزارت خزانہ حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے بات چیت کی جائے گی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھی معاملے پر بات چیت کی وزیراعظم نے آئی ایم ایف سے ریلیف لینے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں تجاویز مانگ لی ہیں۔
آئی ایم ایف کو ریلیف پر منانے کے لیے ٹھوس تجاویز اور سفارشات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے صعنتی شعبے کو درپش مشکلات کم کرنے کےلیے ریلیف سے متعلق تجاویز طلب کرلی گئی۔
آئی ایم ایف سے مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی ٹھوس حکمت عملی پر کام شروع کردیا گیاآئی ایم ایف سے مذاکرات میں تیز معاشی ترقی کیلئے پلان پیش کیا جائے گا ۔
ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے ریلیف کے متبادل کے طور پر ٹیکس نیٹ بڑھانے سے متعلق تجاویز مانگ لی ہیں جس پر ایف بی آر کو رواں مالی سال دیگر ذرائع سے ٹیکس آمدن بڑھانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ئی ایم ایف سے مذاکرات آئی ایم ایف سے ا ئی ایم ایف کے مطابق کی ہدایت
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :