آئی کیپ کا اولمپیاڈ2025میں پاکستان کی بہترین مالیاتی صلاحیتوں کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) 2026 انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈاکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) نے پروفیشنل اکاؤنٹنٹساِن بزنس (PAIB) کمیٹی کے زیر اہتمام نیشنل فنانساولمپیاڈ (اینایفاو) 2025 کا گرینڈ فائنل منعقد کیا جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے فنانس پروفیشنلز، صنعتی رہنماؤںاور ماہرین تعلیم نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز آئی کیپ کے نائب صدر اور پی اے آئی بی کمیٹی کے چیئرمین،سمیع اللہ صدیقی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے نیشنل فنانس اولمپیاڈ کو آئی کیپ کا ایک نمایاں اور فلیگ شپ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس اولمپیاڈ کے انعقاد کا مقصدفنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورانہ افراد میں اسٹرٹیجک سوچ، قیادت اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کوفروغ دینا ہے۔انہوں نے اس طرح کے پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا جو بڑھتے ہوئے مسابقتی کاروباری ماحول میں فنانس لیڈرز کو باصلاحیت اور باخبر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔‘تقریب سے اپنے خطاب میں آئی کیپ کے صدر، سیف اللہ نے کارپوریٹ گورننس، پائیداری اور قومی معاشی ترقی میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ورا فراد کے بدلتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا، اور پیشہ ورانہ برتری اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کے فروغ کے لیے آئی کیپ کے عزم کی توثیق کی۔اس سال میزان بینک لمیٹڈ کے بانی پارٹنر اور سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، عرفان صدیقی نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے نیشنل فنانس اولمپیاڈ جیسے پلیٹ فارمز کو سراہا جہاں ٹیلنٹ نہ صرف سامنے آتا ہے بلکہ اسے ایک مسابقتی ماحول میں اسٹرٹیجک بصیرت اور اسٹوریٹیلنگ کے ذریعے کاروباری چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بھی بنایا جاتا ہے۔اس کے بعد یونی لیور پاکستان کے ہیڈ آف کارپوریٹ فنانس، عبد الرحیم عباسی نے خطاب کیا اور اس بات پر زور دیا کہ’’ صنعت کی قیادت میں کیے جانے والے اقدامات پیشہ ورانہ علم کو عملی کاروباری چیلنجوں سے نمٹنے اور تجارتی سمجھ بوجھ رکھنے والی فنانس قیادت کو فروغ دینے میں نہایت اہم ہیں۔‘‘نیشنل فنانس اولمپیاڈ اپنے قیام سے اب تک فنانس پروفیشنلز کے لیے ایک ممتاز پلیٹ فارم کاکردار ادا کیا ہے جہاں وہ عملی کاروباری چیلنجز کے ذریعے اپنی تکنیکی مہارت اور اسٹرٹیجک فیصلے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس سال منعقد ہونے والے مقابلوں میں 40 ٹیموں نے شرکت کی، جن میں کراچی سے 31، لاہور سے 5، اسلام آباد سے 3 جبکہ سعودی عرب (KSA) سے ایک بینالاقوامی ٹیم شامل تھی۔ دو سخت مراحل کے بعد چھ ٹیموں نے گرینڈ فائنل کے لیے کوالیفائی کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئی کیپ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔