مقابلے میں زخمی ہونے والے ایس ایچ او جمیل خان شہید، سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
لکی مروت:
تجوڑی کے علاقے میں اشتہاری مجرموں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے زخمی ہونے والے ایس ایچ او تھانہ تجوڑی جمیل خان دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
شہید پولیس افسر کی نمازِ جنازہ پولیس لائن لکی مروت میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی، جس میں آر پی او بنوں ریجن سجاد خان، ڈی پی او لکی مروت نزیر خان، ڈپٹی کمشنر حمید اللہ خان اور پولیس افسران و جوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مزید پڑھیںپشاور: سیکیورٹی فورسز کی مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک
اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ افسران نے شہید کے تابوت پر پھول چڑھائے۔
آر پی او سجاد خان نے کہا کہ شہید جمیل خان نڈر، فرض شناس اور پیشہ ور افسر تھے، ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور ملوث عناصر کو جلد قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔