بنگلادیش میں 3 پولیس عہدے داروں کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا(انٹرنیشنل ڈیسک) بنگلادیش کی عدالت نے سابق پولیس سربراہ حبیب الرحمن اور ان کے 2سینئر ساتھیوں کو مظاہرین کے قتل عام پر سزائے موت سنادی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تینوں پولیس عہدیدارمفرور ہیں ۔ جولائیتا اگست 2024 میں جب بنگلہ دیش میں طلبا تحریک جاری تھی، اْس وقت حبیب الرحمن ہی ڈھاکہ کے پولیس چیف تھے۔ 3 ججوں کی بنچ نے سابق پولیس کمشنر حبیب الرحمن، سابق جوائنٹ کمشنر سدیپ کمار چکرورتی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اخترالاسلام کو سزائے موت کا حکم دیا۔ ان کی سرکردگی میں ڈھاکا کے چنکھر پل میں پولیس فائرنگ میں مبینہ طور پر 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔