امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران سے معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران سے معاہدے کی امید ہے، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 28 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں میڈیا سے گفتگو اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران، معیشت، سرحدی سکیورٹی اور آئندہ انتخابات سے متعلق کئی سنسنی خیز دعوے کیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب گامزن ہے اور جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں میڈیا سے گفتگو اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران، معیشت، سرحدی سیکیورٹی اور آئندہ انتخابات سے متعلق کئی سنسنی خیز دعوے کیے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی جانب گامزن ہے اور جون میں ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ڈیل کر لے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں تیل کی قیمتیں کم کر دی گئی ہیں اور ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ہزاروں جرائم پیشہ اور غیرقانونی افراد کو امریکا سے واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ امریکی فوج کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کو مہنگائی کا بحران ورثے میں ملا تھا تاہم ایک سال کے اندر مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی اور امریکی معیشت اب دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مڈٹرم الیکشن باآسانی جیت جائیں گے۔
صدر ٹرمپ نے منی سوٹا واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کی نگرانی کریں گے۔
انہوں نے سابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہی فیصلوں کے باعث لاکھوں غیرقانونی افراد امریکا آئے اور ماضی میں امریکی سرحد تاریخ کی بدترین حالت میں تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسعودی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، محمد بن سلمان سعودی سرزمین اور فضائی حدود ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، محمد بن سلمان روس، چین متحد ہوگئے: ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ ایران نے حملہ کیا تو ایسا جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا: نیتن یاہو کی وارننگ امریکا میں برفباری نے قہر ڈھا دیا؛ 22 کروڑ افراد خون جما دینے والی سردی کا شکار خیبرپختونخوا حکومت نے 804 نمبر پلیٹ کی نیلامی کیوں روک دی؟ وجہ سامنے آگئی لوگ ازخود نہیں جارہے، آفریدی قوم کے بڑوں کو مجبور کیاگیا کہ وادی تیراہ خالی کردیں، سہیل آفریدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی بحری امید ہے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔