ہمیں مہنگائی ورثے میں ملی، ایک سال میں ختم کر دی، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
آئیووا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے امریکا میں تیل کی قیمتیں کم کر دی ہیں اور ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہزاروں جرائم پیشہ افراد کو واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ امریکی فوج کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مڈٹرم الیکشن وہ باآسانی جیت جائیں گے اور کہا کہ موجودہ حکومت کو مہنگائی کا بحران ورثے میں ملا تھا جسے ایک سال کے اندر نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیںٹرمپ انتظامیہ کی ایران سے نئی ڈیل کے لیے چار اہم شرائط سامنے آگئیں
صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا کی معیشت اب دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے منی سوٹا واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کی نگرانی کریں گے۔
انہوں نے سابق حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہی پالیسیوں کے باعث لاکھوں غیرقانونی افراد امریکا میں داخل ہوئے اور ماضی میں امریکی سرحد تاریخ کی بدترین حالت میں تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔