کیا واشنگٹن ایران کے خلاف غیر محفوظ راستے پر قدم رکھنے والا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی اور ایرانی کشیدگی اس ہفتے انتہائی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔ کیریئر گروپس کی تعیناتی، اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات، اور نفسیاتی حربے اس خدشے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران پر ممکنہ حملے کے قریب ہے۔
ایران نے بھی ہنگامی تیاریوں کا اعلان کر دیا ہے، اور اس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو محدود کارروائی نہیں بلکہ مکمل جنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار
اس ہفتے امریکی ایران کشیدگی میں سب سے شدید لمحات متوقع ہیں۔ فوجی، سیاسی اور نفسیاتی عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکا کی جانب سے ایران پر براہ راست حملے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سب سے اہم اشارہ یہ ہے کہ ممکنہ حملے کی فوجی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ امریکی نیوی کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹریک گروپ مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سے وہ ایران کے ہدف پر حملہ کر سکتا ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے یہ پیشرفت سیاسی دباؤ کے مرحلے سے عملی تیاری کے مرحلے کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں حملے کا فیصلہ گھنٹوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔
ایران کا ردعملتہران کی طرف سے ردعمل شدید اور واضح رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی لمحے جنگ چھڑنے کا امکان ہے اور کہا کہ ’فارس خلیج اگلے 24 گھنٹوں میں پھٹ سکتی ہے‘۔
#Breaking
???? The region is on the verge of a regional confrontation
The #Americans are mobilizing their forces by air, sea, and land around #Iran, with initial steps including the use of significant military power to prevent the closure of the Strait of #Hormuz#US can't win war pic.
— MOHAMMAD JAFAR ABBAS محمد جعفر عباس (@MOHAMMA47949502) January 28, 2026
یہ محض جذباتی بات نہیں بلکہ ایک واضح موقف ہے، ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ امریکی حملہ مکمل جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا، محدود کارروائی نہیں۔ ایرانی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور ملک بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے۔
امریکا اسرائیل خفیہ مذاکراتفوجی ردعمل کی تیاری کی ایک اور نشانی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بند دروازوں کے مذاکرات ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایڈمرل براڈ کوپر نے آئی ڈی ایف کے سینیئر اہلکاروں سے رات بھر بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں امریکی حکام نے بتایا کہ حملے کے بارے میں کوئی حتمی سیاسی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن تمام فوجی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی کمانڈرز اس مفروضے پر کام کر رہے ہیں کہ حملہ فوری ہو سکتا ہے۔
نشانے اور اہدافامکان ہے کہ امریکی حملے بنیادی طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (IRGC) اور بسیج کے مراکز کو نشانہ بنائیں گے، تاکہ مرکزی حکومت پر فوری حملے کے امکانات کم ہوں اور تہران کی طرف سے ردعمل کی شدت محدود ہو۔
US #warships in the Middle East, fear of attack in #Iran is tense. Is #Washington preparing a major #missile attack on #Iran jointly with #Israel. pic.twitter.com/fm7YS8l7JG
— Gopal Sengupta (@senguptacanada) January 28, 2026
تاہم تہران میں IRGC صرف فوجی قوت نہیں بلکہ سیاسی نظام کا ستون ہے؛ اس پر حملے کو ریاست پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ٹرمپ کی متضاد بیاناتی پالیسیایک ہفتہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع سے بچنے کی خواہش ظاہر کی، مگر ساتھ ہی کہا کہ ہنگامی حالات کے لیے ایک بڑی امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ ٹرمپ کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے، ایک طرف وہ جنگ نہیں چاہتا، دوسری طرف فورس استعمال کرنے کی تیاری ظاہر کر رہا ہے۔
نفسیاتی اور معلوماتی جنگاس دوران مغربی میڈیا ایران میں ’انسانی المیہ‘ کے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے، جن میں 8-9 جنوری کو 36,500 افراد کے ہلاک ہونے کی دعوے شامل ہیں، جو حقیقت سے بعید ہیں۔ یہ بیانیے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تاکہ جارحانہ کارروائی کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
ممکنہ ہدف کی تاریخحملے کی سب سے ممکنہ تاریخ یکم فروری یا اس سے کچھ قبل ہے، جو تاریخی طور پر اہم ہے: 1 فروری کو 46 سال قبل آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران واپس آئے اور سلطنت کا خاتمہ کر کے نیا نظام قائم کیا۔ یہ تاریخ اسلامی جمہوریہ کے لیے اہم اور قانونی جواز کی بنیاد ہے۔ حملہ اس وقت صرف فوجی نہیں بلکہ علامتی اور نظریاتی اثرات رکھے گا۔
امریکی حکمت عملی اور عدم یقینییہ واضح نہیں کہ حملہ کتنا وسیع ہو گا اور آیا امریکا فیصلہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنائے گا یا صرف مظاہرے کی سطح پر اثر ڈالے گا۔ امریکی فوجی دباؤ اور معلوماتی جنگ کے باوجود، ٹرمپ کی پالیسی میں تضاد ہے، وہ طاقت دکھا رہا ہے مگر مذاکرات کی امید بھی رکھتا ہے۔
#Iran vs. #US_Israel War?
Explosions have occurred at #Iran's Parchin base (pics 1 & 2), where the West has alleged nuclear testing has taken place since 2011. Two days ago, Iran installed an impenetrable iron dome at Taleghan-2 facility there.
IRGC shot down an orbiting drone pic.twitter.com/i33HwTt6az
— MOHAMMAD JAFAR ABBAS محمد جعفر عباس (@MOHAMMA47949502) January 28, 2026
ایران کی تیاریاںایرانی نیوی کے کمانڈر ریئرکمانڈر شہرام ایرانی نے کہا کہ ایران کی فوج مکمل طور پر جنگی حالت میں ہے اور روحانیت اور فوجی مہارت کا امتزاج ایران کی کامیابی کی کلید ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور
حملے کا امکان ہے مگر ابھی حتمی نہیں۔ اسرائیل بھی جانتا ہے کہ وہ ایران کا مقابلہ اکیلا نہیں کر سکتا اور امریکی شامل ہونے کے بغیر جنگ میں نہیں اترے گا۔ زمینی کارروائی اس وقت ممکن نہیں، اور بغیر اس کے ایران میں نظام تبدیلی مشکل ہے۔ صورتحال غیر یقینی ہے، اور یہی موجودہ بحران کی سب سے بڑی کشمکش ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران نہیں بلکہ ایران کی ہیں کہ رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ