امریکی اور ایرانی کشیدگی اس ہفتے انتہائی سنجیدہ مرحلے میں داخل ہونے والی ہے۔ کیریئر گروپس کی تعیناتی، اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات، اور نفسیاتی حربے اس خدشے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایران پر ممکنہ حملے کے قریب ہے۔

ایران نے بھی ہنگامی تیاریوں کا اعلان کر دیا ہے، اور اس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کو محدود کارروائی نہیں بلکہ مکمل جنگ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی بحری بیڑا آبنائے ہرمز پہنچ گیا، ایران کا بھی فوجی مشقوں کا اعلان، سعودی عرب کا فضائی حدود دینے سے انکار

اس ہفتے امریکی ایران کشیدگی میں سب سے شدید لمحات متوقع ہیں۔ فوجی، سیاسی اور نفسیاتی عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکا کی جانب سے ایران پر براہ راست حملے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

سب سے اہم اشارہ یہ ہے کہ ممکنہ حملے کی فوجی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ امریکی نیوی کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹریک گروپ مشرق وسطیٰ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سے وہ ایران کے ہدف پر حملہ کر سکتا ہے۔ فوجی نقطہ نظر سے یہ پیشرفت سیاسی دباؤ کے مرحلے سے عملی تیاری کے مرحلے کی طرف منتقلی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں حملے کا فیصلہ گھنٹوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔

ایران کا ردعمل

تہران کی طرف سے ردعمل شدید اور واضح رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی لمحے جنگ چھڑنے کا امکان ہے اور کہا کہ ’فارس خلیج اگلے 24 گھنٹوں میں پھٹ سکتی ہے‘۔

#Breaking
???? The region is on the verge of a regional confrontation

The #Americans are mobilizing their forces by air, sea, and land around #Iran, with initial steps including the use of significant military power to prevent the closure of the Strait of #Hormuz#US can't win war pic.

twitter.com/4taRtf9jej

— MOHAMMAD JAFAR ABBAS محمد جعفر عباس (@MOHAMMA47949502) January 28, 2026

یہ محض جذباتی بات نہیں بلکہ ایک واضح موقف ہے، ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ امریکی حملہ مکمل جنگ کی ابتدا سمجھا جائے گا، محدود کارروائی نہیں۔ ایرانی مسلح افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور ملک بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے۔

امریکا اسرائیل خفیہ مذاکرات

فوجی ردعمل کی تیاری کی ایک اور نشانی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بند دروازوں کے مذاکرات ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایڈمرل براڈ کوپر نے آئی ڈی ایف کے سینیئر اہلکاروں سے رات بھر بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں امریکی حکام نے بتایا کہ حملے کے بارے میں کوئی حتمی سیاسی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن تمام فوجی تیاری مکمل ہو چکی ہے۔ اسرائیلی کمانڈرز اس مفروضے پر کام کر رہے ہیں کہ حملہ فوری ہو سکتا ہے۔

نشانے اور اہداف

امکان ہے کہ امریکی حملے بنیادی طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کورپس (IRGC) اور بسیج کے مراکز کو نشانہ بنائیں گے، تاکہ مرکزی حکومت پر فوری حملے کے امکانات کم ہوں اور تہران کی طرف سے ردعمل کی شدت محدود ہو۔

US #warships in the Middle East, fear of attack in #Iran is tense. Is #Washington preparing a major #missile attack on #Iran jointly with #Israel. pic.twitter.com/fm7YS8l7JG

— Gopal Sengupta (@senguptacanada) January 28, 2026

تاہم تہران میں IRGC صرف فوجی قوت نہیں بلکہ سیاسی نظام کا ستون ہے؛ اس پر حملے کو ریاست پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ٹرمپ کی متضاد بیاناتی پالیسی

ایک ہفتہ قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع سے بچنے کی خواہش ظاہر کی، مگر ساتھ ہی کہا کہ ہنگامی حالات کے لیے ایک بڑی امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ ٹرمپ کے متضاد رویے کی عکاسی کرتا ہے، ایک طرف وہ جنگ نہیں چاہتا، دوسری طرف فورس استعمال کرنے کی تیاری ظاہر کر رہا ہے۔

نفسیاتی اور معلوماتی جنگ

اس دوران مغربی میڈیا ایران میں ’انسانی المیہ‘ کے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے، جن میں 8-9 جنوری کو 36,500 افراد کے ہلاک ہونے کی دعوے شامل ہیں، جو حقیقت سے بعید ہیں۔ یہ بیانیے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں تاکہ جارحانہ کارروائی کو جواز فراہم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ

ممکنہ ہدف کی تاریخ

حملے کی سب سے ممکنہ تاریخ یکم فروری یا اس سے کچھ قبل ہے، جو تاریخی طور پر اہم ہے: 1 فروری کو 46 سال قبل آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران واپس آئے اور سلطنت کا خاتمہ کر کے نیا نظام قائم کیا۔ یہ تاریخ اسلامی جمہوریہ کے لیے اہم اور قانونی جواز کی بنیاد ہے۔ حملہ اس وقت صرف فوجی نہیں بلکہ علامتی اور نظریاتی اثرات رکھے گا۔

امریکی حکمت عملی اور عدم یقینی

یہ واضح نہیں کہ حملہ کتنا وسیع ہو گا اور آیا امریکا فیصلہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنائے گا یا صرف مظاہرے کی سطح پر اثر ڈالے گا۔ امریکی فوجی دباؤ اور معلوماتی جنگ کے باوجود، ٹرمپ کی پالیسی میں تضاد ہے، وہ طاقت دکھا رہا ہے مگر مذاکرات کی امید بھی رکھتا ہے۔

#Iran vs. #US_Israel War?

Explosions have occurred at #Iran's Parchin base (pics 1 & 2), where the West has alleged nuclear testing has taken place since 2011. Two days ago, Iran installed an impenetrable iron dome at Taleghan-2 facility there.
IRGC shot down an orbiting drone pic.twitter.com/i33HwTt6az

— MOHAMMAD JAFAR ABBAS محمد جعفر عباس (@MOHAMMA47949502) January 28, 2026

ایران کی تیاریاں

ایرانی نیوی کے کمانڈر ریئرکمانڈر شہرام ایرانی نے کہا کہ ایران کی فوج مکمل طور پر جنگی حالت میں ہے اور روحانیت اور فوجی مہارت کا امتزاج ایران کی کامیابی کی کلید ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

حملے کا امکان ہے مگر ابھی حتمی نہیں۔ اسرائیل بھی جانتا ہے کہ وہ ایران کا مقابلہ اکیلا نہیں کر سکتا اور امریکی شامل ہونے کے بغیر جنگ میں نہیں اترے گا۔ زمینی کارروائی اس وقت ممکن نہیں، اور بغیر اس کے ایران میں نظام تبدیلی مشکل ہے۔ صورتحال غیر یقینی ہے، اور یہی موجودہ بحران کی سب سے بڑی کشمکش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران نہیں بلکہ ایران کی ہیں کہ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی