بھارت میں بڑا فضائی حادثہ، مہاراشٹرا کے نائب وزیراعلیٰ سمیت پانچ افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
نئی دہلی/پونے: بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں ایک چارٹرڈ طیارہ کریش لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق حادثہ ضلع پونے کے علاقے بارہ متی میں پیش آیا۔
رپورٹس کے مطابق طیارے میں مہاراشٹرا کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، ان کے دو ساتھی اور عملے کے دو ارکان سوار تھے۔
Ajeet Pawar plan crashed in Baramati.
pic.twitter.com/VY9reKxtmE — Radha Agrawal (@radhaaagrawal) January 28, 2026
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ حادثے میں طیارے میں موجود کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچ سکا۔
This is Horrible
Deputy CM Ajit Panwar's plan crashes.pic.twitter.com/E0cWXi2cdr
میڈیا کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ کریش لینڈنگ کی اصل وجہ سامنے لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :