امریکی بحری بیڑے کی آمد کے بعد ایران سے معاہدے کی امید، ٹرمپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئیووا میں میڈیا سے گفتگو اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران، ملکی معیشت، سرحدی سیکیورٹی اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے اہم اور سنسنی خیز دعوے کیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی بحری بیڑہ ایران کی طرف روانہ ہے اور جون میں ایران کی جوہری صلاحیت ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کی گئی فوجی کارروائی کے دوران کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا اور امید ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک ڈیل پر پہنچ جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی حکومت نے ملک میں تیل کی قیمتیں کم کر دی ہیں اور سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ہزاروں جرائم پیشہ اور غیر قانونی افراد کو ملک سے واپس بھیجا جا چکا ہے جبکہ امریکی فوج کی طاقت میں اضافہ کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے موجودہ حکومت پر مہنگائی کا بحران ورثے میں ملنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایک سال کے اندر مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی معیشت اب دنیا کی مضبوط ترین معیشت بن چکی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مڈٹرم انتخابات با آسانی جیت جائیں گے۔ علاوہ ازیں، منی سوٹا واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ خود اس کی نگرانی کریں گے۔
انہوں نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہی پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں غیر قانونی افراد امریکہ آئے اور ماضی میں امریکی سرحدیں اپنی تاریخ کی بدترین حالت میں تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔