سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے
دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی
(رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے کر دیا ہے تاکہ ماہرین ڈیمولیشن سے متعلق فیصلہ کریں جبکہ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی)جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، فی الحال سیل نہیں کیا۔دکان داروں کا سامان بھی اندر موجود ہے، دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد74ہوگئی ہے، جبکہ 49 افراد کی تلاش اب بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق متاثرہ عمارت کے اطراف میں حفاظتی اقدامات کے تحت پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں۔عمارت کو گرین شیڈ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کر کے علاقے میں نگرانی جاری ہے۔لاپتہ افراد کی شناخت کے لیے 55 سے زائد افراد کے ڈی این اے سیمپلز لیے گئے ہیں۔ اب تک 24 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جن میں 17 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی ہے جبکہ 7 افراد کی شناخت فوری طور پر کی گئی تھی۔تاہم، کچھ باقیات کا ڈی این اے سیمپل ملنا مشکل ہے، جس کے باعث ان کی شناخت میں وقت لگنے کا امکان ہے۔انتظامیہ کے مطابق متاثرہ عمارت کے ملبے کو مکمل طور پر ہٹانے یا منہدم کرنے کے حوالے سے فیصلہ ایس بی سی اے کے ماہرین کریں گے۔حکام نے عوام اور اہل خانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات کی مکمل پابندی کریں اور متاثرہ علاقے میں غیر ضروری طور پر داخل نہ ہوں۔ڈپٹی کمشنر ڈی سی)جنوبی جاوید نبی کھوسو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گل پلازا میں کوئی غیر متعلقہ شخص داخل نہ ہو، اس لیے اس کو کورڈن آف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ فیملی کا شخص اگر اندر جانا چاہے تو ہم اسے محفوظ طریقے سے لے کر جائیں گے، ہم نے گل پلازا کو سیکیور کیا ہے، سیل نہیں کیا۔جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ دکان داروں کا سامان بھی اندر موجود ہے، دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پشاور سے 2 لاپتا افراد کے ورثا بھی کراچی پہنچے ہیں، جنہیں کل ڈی این اے کے لیے سول اسپتال بلایا ہے۔حکام کے مطابق تحقیقات کی جارہی ہیں، غفلت اور لاپرواہی کے تمام پہلو سامنے لائے جائیں گے کہ آگ لگنے کے بعد بھی دروازے کیوں نہیں کھولے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: حفاظتی اقدامات کے افراد کی شناخت لے کر جائیں گے متاثرہ عمارت ڈی این اے کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔