Islam Times:
2026-07-24@08:04:21 GMT

امن کے نام پر امریکی بالادستی

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT

امن کے نام پر امریکی بالادستی

اسلام ٹائمز: نظام ولایتِ فقیہ کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ محض حکمرانی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی نظام ہے، جس کے تحت دنیا بھر کے شیعہ اور دیگر طبقات خود کو ایک نظریاتی رشتے میں بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ نظام طاقت، سرمائے یا خوف پر نہیں بلکہ اصول، استقلال اور اجتماعی شعور پر قائم ہے۔ آخرکار یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ غزہ امن بورڈ جیسے منصوبے، ایران پر دباؤ اور اقوام متحدہ کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوششیں ایک ہی خوف سے جنم لیتی ہیں۔ وہ خوف کہ دنیا اب آہستہ آہستہ امن کے نام پر کی جانے والی سیاست کو پہچاننے لگی ہے۔ اس تمام تر منظرنامے میں ایک بات طے ہے کہ ایران زندہ ہے اور یہ زندگی صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ فکر، نظریئے اور خودداری کی زندگی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ علی شجاعی

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے، جہاں الفاظ اور اعمال کے درمیان فاصلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ امن، انسانی حقوق اور عالمی ذمہ داری جیسے خوش نما نعروں کے پیچھے طاقت، مفادات اور بالادستی کی وہ سیاست کارفرما ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کو مسلسل آگ میں جھونک رکھا ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس کا تصور سامنے آتا ہے، جو اپنی ساخت، وقت اور مقاصد کے اعتبار سے کئی سنجیدہ اور بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ نام نہاد منصوبہ اس وقت سامنے آیا، جب غزہ عملی طور پر کھنڈر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ستر ہزار سے زائد جانوں کے ضیاع، لاکھوں کے بے گھر ہونے، مکمل شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور نسلوں کے مستقبل کے ملبے تلے دب جانے کے بعد اگر کسی بورڈ کی تشکیل یاد آتی ہے تو یہ انسانی ہمدردی سے زیادہ سیاسی کنٹرول کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ غزہ کی بحالی کیوں ضروری ہے، سوال یہ ہے کہ تباہی کے دوران خاموش رہنے والے بلکہ اس تباہی کے پس پردہ قوتیں، آج کس اخلاقی جواز کے ساتھ منتظم بننے چلے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں یہ منصوبہ اقوام متحدہ کے وجود اور اس کی ساخت پر براہ راست ضرب لگاتا ہے۔ اگر عالمی تنازعات کے حل، انسانی بحرانوں اور جنگی جرائم کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ موجود ہے تو پھر ایک متوازی بورڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔؟ درحقیقت یہ تصور اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں عالمی اداروں کو بے اختیار اور طاقتور ریاستوں کو فیصلہ کن کردار سونپ دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اقوام متحدہ کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ عالمی نظام کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ اس بورڈ سے جڑا سب سے متنازع پہلو اس کی قیادت کا تصور ہے، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے آپ کو تاحیات سربراہ کے طور پر پیش کرنے کی بات کی ہے۔ تاحیات قیادت کا تصور جمہوریت، جواب دہی اور اجتماعی نگرانی کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔

یہ سوال ناگزیر ہے کہ جو شخص خود اپنے ملک میں ادارہ جاتی تصادم، سیاسی انتشار اور آئینی بحرانوں کی علامت رہا ہو، وہ کسی تباہ حال خطے کے مستقبل کا مستقل فیصلہ ساز کیسے بن سکتا ہے۔؟ یہ دراصل جدید دنیا میں سیاسی بادشاہت کی ایک نئی شکل ہے، جسے امن کے لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں بعض مسلم ممالک کے رویئے بھی تشویش ناک ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے اس منصوبے یا اس شخصیت کے لیے غیر معمولی عجلت میں آمادگی نے کئی حلقوں میں حیرت اور سوالات کو جنم دیا۔ ننگے پیر دوڑ لگا کر ٹرمپ کے بغل میں بیٹھ کر جی جی کرنا اور ایک ایسے شخص کے لیے جلدی شرکت اور مثبت اشارے دینا، جو فلسطین کے معاملے میں اسرائیلی جارحیت کا کھلا یا بالواسطہ حامی رہا، کیا واقعی امت مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔؟

ٹرمپ کے اس امپورٹیڈ حکمران کا یہ رویہ اصولیت کے بجائے دباؤ اور مصلحت کی جھلک پیش کرتا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے اس نام نہاد غزہ بورڈ میں جن دیگر ممالک کے نمائندوں نے حاضری لگائی، ان کا کردار بھی شدید تنقید کا متقاضی ہے۔ یہ حاضری دراصل غزہ کے عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے اس تباہی کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے ممالک کی شرکت سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے بجائے عالمی طاقتوں کی خوشنودی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر واقعی ان ممالک کا مقصد امن اور انسانی فلاح ہوتا تو وہ سب سے پہلے جنگ بندی، محاصرے کے خاتمے اور جنگی جرائم کے احتساب کا مطالبہ کرتے، نہ کہ ایک ایسے بورڈ کا حصہ بنتے، جس کی قیادت اور ایجنڈا خود متنازع ہے۔ یہاں ہمارے ملک کی قیادت داد کی مستحق ہے، جنہوں نے اس نام نہاد بورڈ میں دبے پاؤں چلنے سے گریز گیا۔

امن کے دعوے دار ٹرمپ کی اپنی ریاست کے حالات بھی ان کے بیانیے سے میل نہیں کھاتے۔ امریکہ کے اندر لاکھوں افراد ان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، امریکہ میں نسلی امتیاز اور سماجی بے چینی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ جو شخص اپنے معاشرے میں انصاف، ہم آہنگی اور استحکام فراہم نہ کرسکا، وہ عالمی امن کا علمبردار بننے کا اخلاقی حق کیسے رکھتا ہے۔؟ یہی تضاد ان کے ہر دعوے کو کمزور بنا دیتا ہے۔ اسی تضاد کی انتہاء ٹرمپ کے نوبل امن انعام کے خواب میں نظر آتی ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بربادی کے بیج بونے والی پالیسیوں کے معمار آج خود کو امن کے داعی کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اگر بربریت کے ذمہ داروں کو امن کے اعزاز سے نوازا جاتا تو یہ نہ صرف انعام کی توہین تھی بلکہ عالمی اخلاقیات کی شکست کا اعلان بھی۔

ان تمام حالات کے برعکس ایران کا کردار ایک مختلف زاویئے سے سامنے آتا ہے۔ مسلسل پابندیوں، اقتصادی دباؤ، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ایران نے واضح طور پر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کی مرضی کے مطابق اپنی پالیسی نہیں بدلے گا اور یہی خودداری اسے مسلسل نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ رہبرِ انقلاب اسلامی اس خود مختار سوچ اور مزاحمتی فکر کی علامت بن چکے ہیں۔ وہ صرف ایران کے قومی رہنماء نہیں بلکہ ایک عالمگیر فکری شخصیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں، جن کی قیادت نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی قیادت اگر اصولوں سے جڑی ہو تو وہ سرحدوں سے ماورا اثر رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت محض ایک ریاست تک محدود نہیں۔

نظام ولایتِ فقیہ کو بھی اسی تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ یہ محض حکمرانی کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی نظام ہے، جس کے تحت دنیا بھر کے شیعہ اور دیگر طبقات خود کو ایک نظریاتی رشتے میں بندھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ یہ نظام طاقت، سرمائے یا خوف پر نہیں بلکہ اصول، استقلال اور اجتماعی شعور پر قائم ہے۔ آخرکار یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ غزہ امن بورڈ جیسے منصوبے، ایران پر دباؤ اور اقوام متحدہ کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوششیں ایک ہی خوف سے جنم لیتی ہیں۔ وہ خوف کہ دنیا اب آہستہ آہستہ امن کے نام پر کی جانے والی سیاست کو پہچاننے لگی ہے۔ اس تمام تر منظرنامے میں ایک بات طے ہے کہ ایران زندہ ہے اور یہ زندگی صرف جغرافیے کی نہیں بلکہ فکر، نظریئے اور خودداری کی زندگی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ نہیں بلکہ کی قیادت کرتا ہے ٹرمپ کے ا ہستہ ہستہ ا امن کے کہ ایک

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی