شہریوں کے لیے بری خبر؛ بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
بجلی صارفین کے لئے بری خبر سامنے آئی ہے جب کہ ایک ماہ کیلئے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
سی پی پی اے نے نیپرا میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست دائر کردی، نیپرا اتھارٹی سی پی پی اے کی درخواست پر کل سماعت کرے گی۔
درخواست میں کہا گیا کہ دسمبر میں 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق ماہ دسمبر میں بجلی لی کی فی یونٹ لاگت 9.
سی پی پی اے کے مطابق درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد بجلی کی پیداوار رہی، قدرتی گیس سے 11.20 درآمدی گیس سے 17.24 فیصد پیداوار رہی، نیوکلیئر سے بجلی کی پیداوار دسمبر میں 25.05 فیصد رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کی پیداوار سی پی پی اے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔