ٹرمپ کی عراق کو وارننگ: نوری المالکی کی واپسی پر امریکی حمایت ختم کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا ہے کہ اگر سابق وزیرِاعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو امریکہ عراق کی مزید حمایت بند کر دے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شیعہ سیاسی اتحاد کوآرڈینیشن فریم ورک نے المالکی کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ المالکی کے گزشتہ دور میں عراق کو شدید بدامنی اور غربت کا سامنا کرنا پڑا، اور دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، اگر المالکی دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکہ کی مدد کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی ممکن نہیں ہوگی۔
امریکی حکام نوری المالکی کو ایران کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، جس پر واشنگٹن میں طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور 2003 میں صدام حسین کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیرِاعظم ہیں جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔ تاہم ان پر اقتدار کو مرکوز رکھنے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران کے قریب ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکہ نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔
ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران کے زیر اثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نیا معاملہ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نوری المالکی ایران کے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔