محققین کا دلچسپ دعویٰ: انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
جینیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسانوں کے لیے 150 سال تک زندہ رہنا ممکن ہو سکتا ہے۔
ماہرِ جینیات اسٹیو ہوروتھ نے حال ہی میں بتایا کہ حیاتیاتی عمر کی درست پیمائش کے لیے کی جانے والی جدید تحقیق ایک انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد دے رہی ہے کہ بڑھاپے سے جڑی بیماریوں کے علاج کے بجائے کیا ہم بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں، یا انسان بوڑھا ہونے کے بعد دوبارہ جوان ہو سکتا ہے۔
اسٹیو ہوروتھ کا کہنا ہے کہ تحقیق کی پیشرفت اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی حیاتیاتی عمر کو پیچھے کی طرف موڑا جا سکتا ہے، یعنی بوڑھاپے کے بعد دوبارہ جوان ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمر بڑھانے والے کسی بھی علاج کی توثیق سے پہلے عمر کی درست پیمائش کے قابلِ اعتماد طریقے انتہائی ضروری ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ علاج واقعی مؤثر ہے۔
اسٹیو ہوروتھ کے مطابق یہ تحقیق جدید جینیات اور سائنس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کی لمبی عمر کو نئی شکل دینے کے امکانات روشن کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔