محققین کا دلچسپ دعویٰ: انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
جینیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسانوں کے لیے 150 سال تک زندہ رہنا ممکن ہو سکتا ہے۔
ماہرِ جینیات اسٹیو ہوروتھ نے حال ہی میں بتایا کہ حیاتیاتی عمر کی درست پیمائش کے لیے کی جانے والی جدید تحقیق ایک انقلاب کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تحقیق سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد دے رہی ہے کہ بڑھاپے سے جڑی بیماریوں کے علاج کے بجائے کیا ہم بڑھاپے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں، یا انسان بوڑھا ہونے کے بعد دوبارہ جوان ہو سکتا ہے۔
اسٹیو ہوروتھ کا کہنا ہے کہ تحقیق کی پیشرفت اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی حیاتیاتی عمر کو پیچھے کی طرف موڑا جا سکتا ہے، یعنی بوڑھاپے کے بعد دوبارہ جوان ہونا ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمر بڑھانے والے کسی بھی علاج کی توثیق سے پہلے عمر کی درست پیمائش کے قابلِ اعتماد طریقے انتہائی ضروری ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ علاج واقعی مؤثر ہے۔
اسٹیو ہوروتھ کے مطابق یہ تحقیق جدید جینیات اور سائنس کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے اور انسان کی لمبی عمر کو نئی شکل دینے کے امکانات روشن کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔