روسی ڈرون حملے میں یوکرین کے شہر اوڈیسا میں 3 افراد ہلاک، بچوں سمیت متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کیف: روس کی جانب سے یوکرین کے جنوبی شہر اوڈیسا پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 23 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں 50 سے زائد ڈرون استعمال کیے گئے، جن میں بعض جدید اور زیادہ طاقتور ماڈلز تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ روسی ڈرونز نے بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا، جس کے باعث شدید سردی کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
حملے میں پانچ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جب کہ ملبے تلے دب کر دو مرد اور ایک خاتون جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام افراد کا سراغ نہ مل جائے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایسے حملے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور عالمی برادری سے جنگ کے خاتمے کے لیے تیز رفتار سفارتکاری پر زور دیا ہے۔ زیلنسکی نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ ماسکو کو مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف میں ایک مسافر ٹرین کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس میں چار افراد ہلاک اور کئی لاپتا ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق حالیہ حملوں میں اوڈیسا، کیف اور لویو کے تاریخی مقامات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔