سردی میں چہرے کی رنگت ماند کیوں پڑ جاتی ہے؟ وجوہات اور قدرتی دیکھ بھال
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
سردیوں کا موسم جہاں خوشگوار ٹھنڈک لے کر آتا ہے وہیں بہت سے لوگوں کے لیے جلد کے مسائل بھی بڑھا دیتا ہے۔ خاص طور پر چہرے کی رنگت کا ماند پڑ جانا، بے رونقی اور خشکی عام شکایات بن جاتی ہیں۔
آیئے جانتے ہیں کہ سردی میں ایسا کیوں ہوتا ہے اور کن آسان طریقوں سے جلد کی تازگی بحال کی جا سکتی ہے۔
ٹھنڈی ہوا اور نمی کی کمی
سرد موسم میں فضا میں نمی کم ہو جاتی ہے، جبکہ تیز اور خشک ہوائیں جلد کی قدرتی نمی چھین لیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جلد کھنچی کھنچی سی محسوس ہوتی ہے اور چہرہ بے جان نظر آنے لگتا ہے۔
خون کی گردش سست ہونا
ٹھنڈ میں جسم اہم اعضا کو گرم رکھنے کے لیے جلد کے قریب خون کی روانی کم کر دیتا ہے۔ جب چہرے تک مناسب مقدار میں خون نہیں پہنچتا تو رنگت قدرتی طور پر پھیکی دکھائی دینے لگتی ہے۔
دھوپ میں کمی اور وٹامن ڈی
سردیوں میں دھوپ کم ملتی ہے جس سے وٹامن ڈی کی سطح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کمی سے جلد کی صحت کمزور پڑتی ہے اور چہرہ تازہ دم نظر نہیں آتا۔
گرم پانی سے بار بار منہ دھونا
سردیوں میں بہت زیادہ گرم پانی سے چہرہ دھونا جلد کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے خشکی بڑھتی ہے اور جلد کی چمک ختم ہونے لگتی ہے۔
پانی کم پینا
ٹھنڈ کے موسم میں پیاس کم لگتی ہے، مگر جسم کو پانی کی ضرورت بدستور رہتی ہے۔ پانی کی کمی جلد کو اندر سے خشک کر دیتی ہے، جس سے رنگت مزید ماند پڑ سکتی ہے۔
غذائی کمی کا اثر
اگر غذا میں پھل، سبزیاں اور صحت مند چکنائیاں کم ہوں تو جلد کو ضروری غذائیت نہیں مل پاتی۔ اس کا اثر بھی چہرے کی رونق پر پڑتا ہے۔
سردیوں میں چہرے کی رنگت کیسے بحال رکھیں؟
ہلکے نیم گرم پانی سے منہ دھوئیں، اچھا موئسچرائزر باقاعدگی سے لگائیں اور دھوپ میں روزانہ چند منٹ گزاریں۔ دن میں کم از کم دو سے تین لیٹر پانی پینا بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
دیسی ٹوٹکے جو جلد کو نکھاریں
بادام کا تیل یا زیتون کا تیل رات کو ہلکے ہاتھ سے لگائیں، شہد اور دہی کا ماسک ہفتے میں ایک بار استعمال کریں اور گلاب کے پانی سے چہرہ صاف کریں تاکہ تازگی برقرار رہے۔
سردیوں میں چہرے کی رنگت ماند پڑنے کی بڑی وجوہات میں خشکی، خون کی گردش میں کمی، دھوپ کی قلت اور پانی کم پینا شامل ہیں۔ تھوڑی سی توجہ اور مناسب دیکھ بھال سے جلد کی قدرتی چمک کو موسمِ سرما میں بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سردیوں میں پانی سے جلد کی ہے اور
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین