جناح اسپتال میں لاکھوں کی ادویات چوری پکڑی گئی، ملزمان کیخلاف ایف آئی آر درج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
کراچی: شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جے پی ایم سی میں لاکھوں روپے مالیت کی ادویات چوری پکڑی گئی، ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔اسپتال ذرائع کے مطابق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں لاکھوں روپے مالیت کی ادویات چوری کا واقعہ پیش آیا، ایمرجنسی اسٹاف کا ایک فرد ادویات وین میں بھر کر چوری کرکے لے جارہا تھا۔ سیکیورٹی گارڈز نے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی پر ملزمان کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر اسپتال چوکی منتقل کردیا جس کے بعد اسپتال انتظامیہ کی شکایت پر مقدمہ درج کرلیا گیا۔انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ جناح اسپتال میں ادویات چوری کا یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا جبکہ اس بار برآمد ہونے والی ادویات کی مالیت تقریباً 15 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی ڈاکٹر خالد شیر نے بتایا کہ جناح اسپتال میں ادویات چوری کی اطلاعات پر ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے جبکہ معاملے کی شکایت محکمہ صحت سندھ کو بھی ارسال کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹل انکوائری مکمل کرکے رپورٹ وزیرِ صحت سندھ کو بھجوا دی گئی ہے اور امید ہے کہ محکمہ صحت اور پولیس اس معاملے پر سخت کارروائی کریں گے۔ڈاکٹر خالد شیر کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال میں جلد مختلف شعبوں کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جناح اسپتال میں جے پی ایم سی ادویات چوری
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔