ایم کیو ایم کراچی کو وفاق کے حوالے کرنا چاہتی ہے تو قومی اسمبلی میں قرارداد لے آئے، سعدیہ جاوید
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
ترجمان سندھ حکومت نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہوگی تو بنایا جائیگا، ہم نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار نہیں کیا لیکن بلیک میلنگ کے ذریعے جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا، ضروری نہیں اپوزیشن کی ہر فرمائش پوری کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم چاہتی ہے کراچی وفاق کے حوالے کیا جائے تو قومی اسمبلی میں قرارداد لے آئے۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ایم کیوایم رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کی خبروں میں صداقت نہیں، وزیر اطلاعات سندھ نے بھی پریس کانفرنس کرکے اس بات کی تردید کی ہے، ایم کیو ایم رہنما سیکیورٹی واپس لینے کی بات پر جھوٹ بول رہے ہیں، کسی کی بھی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی۔ ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب فرانزک لیب سے جس چیز کی مدد کی ضرورت تھی وہ مدد لی گئی، پنجاب فرانزک کی ٹیم معائنہ کررہی ہے، ایک صوبہ دوسرے صوبے سے مدد مانگتا ہے، گیارہ دن کے بعد وزیراعلی پنجاب کی مدد کی آفر پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
سعدیہ جاوید نے بتایا کہ سندھ فرانزک لیب کے قیام پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، سندھ فرانزک لیب رواں سال کے اختتام تک آپریشنل ہو جائے گی، سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہوگی تو بنایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جوڈیشل کمیشن بنانے سے انکار نہیں کیا لیکن بلیک میلنگ کے ذریعے جوڈیشل کمیشن نہیں بنے گا، ضروری نہیں اپوزیشن کی ہر فرمائش پوری کی جائے، ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں کہا اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا ہے رانا ثنا کا بیان نہیں سنا لیکن اگر ایم کیو ایم چاہتی ہے کراچی وفاق کے حوالے کیا جائے تو قومی اسمبلی میں قرارداد لے آئے، ایم کیو ایم سے سوال کرتی ہوں ہمیں بھی اس وقت شک تھا جب بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی گئی تھی، بلدیہ فیکٹری میں جب آگ لگی تھی تو اس وقت ایم کیو ایم پر الزام تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے جوڈیشل کمیشن ایم کیو ایم اسمبلی میں کے حوالے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔