ریسکیو عملہ 40 منٹ تاخیر سے کیوں پہنچا؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
گل پلازا آتشزدگی کے دوران ریسکیو 1122 کے عملے نے جائے وقوع پر پہنچنے میں تقریباً 40 منٹ کی تاخیر کیوں کی؟
سانحہ گل پلازا میں آگ لگنے کے واقعے کے دوران انسانی جانوں کے بچاؤ کے لیے مناسب اقدام کیوں نہیں اٹھائے گئے۔
گل پلازا کے باہر موجود لوگوں نے اندر اپنے پیاروں کے پھنسے ہونے کی اطلاع دی پھر بھی آگ بجھانے اور ریسکیو 1122 کے عملے نے گل پلازا کے داخلی دروازے کیوں نہیں توڑے؟
کمشنر کراچی گل پلازامیں لگنے والی آگ کی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو پیش کریں گے۔
دروازے بند تھے تو کھڑکیاں توڑ کر وہاں پھنسے لوگوں کو کیوں نہ نکالا گیا؟
آگ عمارت کے ایک طرف لگی تھی تو دوسری طرف سے عمارت میں داخل ہو کر لوگوں کو ریسکیو کرنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟
گل پلازا سانحے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ نے مزید سوال اٹھادیے۔
کمشنر کراچی کی رپورٹ میں حادثے کو سانحے میں تبدیل کرنے کے ذمے داروں کا تعین کیا گیا نہ ہی ان خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی جن سے مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔