وادی تیرہ میں کوئی آپریشن نہیں،صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہورہی ہے؛ طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ وادی تیرہ میں آپریشن نہیں ہورہا صرف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہورہی ہے۔
طلال چودھری نے کہا کہ اگر کوئی آپریشن ہوا تو اعلانیہ ہوگا اسے چھپائیں گے کیوں؟ آپریشن سب کو بتاکر کریں گے ۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ پر پی ٹی آئی نے منفی سیاست شروع کردی، پی ٹی آئی والے وادی تیراہ میں آپریشن کرنا تو چاہتے ہیں لیکن چھپ رہے ہیں۔
طلال چودھری کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ کے لوگوں کو فراہم کی گئی امداد میں خورد برد کی گئی، کوہستان مالیاتی اسکینڈل سب کے سامنے ہے، چار ارب روپے کی بدعنوانی کی گئی اور اب یہ لوگ سیاسی بیانیہ بنانے اور کرپشن چھپانے کے لیے بہانے تراشتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلال چودھری
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔