لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے
آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برف باری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ آپریشن کے حوالے سے بیان میں کہا کہ وادی تیراہ پر آج ایک بار پھر سخت ترین حالات مسلط کیے گئے ہیں، عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو رجیم چینج آپریشن کے ذریعے گرایا گیا، رجیم چینج کے بعد جب دہشت گرد دوبارہ آباد ہو رہے تھے تو خیبر سے ہزارہ اور ملاکنڈ سے لے کر ڈی آئی خان اور وزیرستان تک ہم نے جرگے اور امن پاسون منعقد کیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے خبردار کیا کہ پختون قوم کے سروں کا سودا ہو رہا ہے اور ہم پر دہشت گردی دوبارہ مسلط کی جا رہی ہے، اس وقت پی ڈی ایم کی ناجائز حکومت کہتی تھی کہ ہم جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے ہیں، اس وقت پختون قوم بڑی تعداد میں باہر نکلے اور بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جن اضلاع میں عوام نے ان فیصلوں کو رد کیا، وہاں اللہ کے فضل سے آج بھی امن قائم ہے، بدقسمتی سے جن اضلاع میں اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہاں آج ہم دوبارہ بدامنی کا شکار ہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عمران خان کی منتخب جمہوری حکومت کو گرایا، جس کے نتیجے میں بدامنی بھی لوٹی اور معیشت بھی تباہ ہوئی اور آج سرمایہ کار اور نوجوان ملک سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وادی تیراہ پر بھی جب بند کمروں کے فیصلے مسلط کیے جا رہے تھے تو میں نے اس کے خلاف آواز بلند کی، جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے چھت تلے تمام مکاتب فکر اور صوبے کی تمام سیاسی جماعتوں کے جرگے نے متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈا منظور کیا، سب اس بات پر متفق تھے کہ ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں اور آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ سب نے کہا کہ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کیا جائے تاکہ مستقل امن قائم ہو سکے، لیکن یہ نہیں مانے اور بند کمروں میں فیصلہ ہوا کہ وادی تیراہ پر ایک بار پھر آپریشن مسلط کیا جائے، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں آفریدی قوم کے بڑوں کو کہا گیا کہ آپ لوگ گھروں کو خالی کریں کیونکہ ان گھروں سے دہشت گرد حملے کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا لیکن انہیں مجبور کیا گیا کہ برف باری کے موسم میں اپنے گھر بار خالی کریں، میں بار بار واضح کرتا رہا کہ جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برف باری کے باعث جانور بھی زندہ نہیں رہ سکتے، اب نقل مکانی کرنے والے بزرگ، بچے اور خواتین پوری دنیا دیکھ رہی ہے اور برف باری کی وجہ سے آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی وادی تیراہ ا پریشن کی باری کے مسلط کی کیا جا
پڑھیں:
ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
علیمہ خان (فائل فوٹو)۔بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔
راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی گورکھ پور ناکے پر پہنچ گئے، سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں گورکھ پور ناکے پر پہنچے۔
انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔