پرو ہاکی لیگ، دوسرے رائونڈ کیلئے قومی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
لاہور(نیوزڈیسک) پرو ہاکی لیگ اور ورلڈ کپ کوالیفائنگ راونڈ کیلئےقومی ہاکی ٹیم کا اعلان کر دیا گیا، قومی اسکواڈ 20 کھلاڑیوں اور 6 آفیشلز پر مشتمل ہو گا، محمد عماد بٹ کی زیر قیادت ٹیم دو فروری کو آسٹریلیا روانہ ہوگی ۔
سیکرٹری پاکستان ہاکی فیڈریشن رانا مجاہد اور ہیڈ کوچ طاہر زمان نےاسلام آباد میں ٹیم کا اعلان کرتے ہوے کہا آسٹریلیا جانیوالا قومی اسکواڈ ہی ورلڈ کپ کوالیفائرز میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرے گا ۔ اسکواڈ میں دو تبدیلیاں کرتے ہوے گول کیپر عبداللہ اشتیاق اور منان رضا کی جگہ علی رضا اور عمیر ستار کو شامل کیا گیا ہے ۔ قومی ہاکی ٹیم میں منیب الرحمن،علی رضا،ارشد لیاقت،محمد عبداللہ،سفیان خان، ارباز احمد،حماد انجم، معید شکیل، غضنفر علی، ذکریا لیاقت،عمیر ستار،حنان شاہد، رانا وحید،ندیم احمد، عبدالرحمان، رانا ولید، افراز اور ابوبکر شامل ہیں ۔
رانا مجاہد نے بتایا کھلاڑیوں کی ڈیلیز کا معاملہ حکومت کیساتھ اٹھایا ہے ۔ جمعہ تک کھلاڑیوں کے تمام بقایاجات ادا کر دیئے جائیں گے ۔ ہیڈ کوچ طاہر زمان کا کہنا تھا طویل عرصے بعد پاکستان کو ٹاپ ٹیموں کے خلاف کھیلنے کا موقع مل رہا ہے ۔ کپتان محمد عماد بٹ نے کہا کہ کھلاڑیوں کا مورال بلند ہے ۔ امید ہے وزیراعظم قومی کھیل کی مزید حمایت کریں گے۔شیڈول کے مطابق پاکستان پرو ہاکی لیگ کے دوسرے راؤنڈ میں قومی ٹیم دس اور تیرہ فروری کو آسٹریلیا جبکہ گیارہ اور چودہ فروری کو جرمنی کے خلاف میچ کھیلے گی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔